10 بڑے شہروں میں ڈینگی پھیلنے کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: ملک کے 10 بڑے شہروں میں ڈینگی پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا گیا۔محکمہ موسمیات نے کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت 10 بڑے شہروں میں ڈینگی کے پھیلائو سے متعلق الرٹ جاری کیا، جس میں 20 ستمبر سے ڈینگی کے پھیلنے کے خدشے کا ظہار کیا گیا اور محکمہ موسمیات نے اس کے پیشِ نظر عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کردی۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ حالیہ بارشوں اور سیلابی پانی نے ڈینگی مچھر کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے جس کی وجہ سے کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت 10 بڑے شہر اس وائرس کے شدید خطرے سے دوچار ہیں، موسمیاتی ڈیٹا میں اس سال ڈینگی کے سب سے شدید پھیلائو کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔اس حوالے سے جاری میں الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈینگی مچھر سورج نکلنے کے بعد اور سورج ڈھلنے سے پہلے سب سے زیادہ متحرک ہوتے ہیں، درجہ حرارت 26 سے 29 ڈگری، نمی 60 فیصد اور بارش 27 ملی میٹر ڈینگی کے پھیلائو کے لیے انتہائی موزوں حالات ہیں، سیلاب زدہ علاقوں میں ٹھہرا ہوا پانی ڈینگی مچھر کی افزائش کے لیے خطرناک ہے، اس لیے شہری انتظامیہ فیومیگیشن اور صفائی کے اقدامات تیز کرے تاکہ اس وباءپر بروقت قابو پایا جائے۔
کہا جارہا ہے کہ ڈینگی کے پھیلائو کے حوالے سے موجودہ موسم حساس ہے لہٰذاتمام ادارے اور عوام فوری تدارکی اقدامات یقینی بنائیں نیز انسداد ڈینگی مہم سے وابستہ محکموں کے افسران و اسٹافر اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور فیلڈ میں متحرک انداز میں کام کرتے ہوئے شہریوں میں ڈینگی سے بچائو کےلیے صفائی ستھرائی و احتیاط کے بارے میں احساس اور آگہی کو یقینی بنائیں،علاوہ ازیں اس سلسلہ میں علما کرام اور آئمہ حضرات بھی اپنے خطبات میں لوگوں کو ڈینگی کے خطرات اور اس سے بچائو کے طریقوں سے آگاہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔