جنگ بندی کے بعد غزہ کی تعمیر نو اہم مرحلہ ہے، جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
لاہور: ملی یکجہتی کونسل پنجاب کے صدر محمد جاوید قصوری اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کر رہے ہیں
لاہور (نمائندہ جسارت) ملی یکجہتی کونسل پنجاب کا نئے تنظیمی سیشن کا اہم اجلاس صدر ملی یکجہتی کونسل پنجاب وسطی اور امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری کی زیر صدارت دفتر مجلسِ وحدت المسلمین ماڈل ٹاؤن ایکسٹینشن لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد ملی یکجہتی کونسل پنجاب کے صدر محمد جاوید قصوری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں 13 دینی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی ہے، ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس میں مولانا جاوید قصوری، علامہ احمد اقبال رضوی، مولانا شبیر قادری، مولانا مختار سواتی، حسن رضا کاظمی، میاں عبدالحمید، فاروق چوہان، پروفیسر ادریس یزدانی، قاری عبدالشکور، مفتی عمر اعوان، قاری وقار چترالی، قاری مشتاق لاہوری، پیر ارشد اویسی، مبین چغتائی، علامہ علی اکبر، چوہدری آفتاب، علامہ ظہیر الحسن کربلائی، پروفیسر ابوبکر صدیق و دیگر شریک ہوئے۔ محمد جاوید قصوری نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو متحد کیا جائے گا، غزہ کی جنگ بندی کے بعد تعمیر نو کا اہم مرحلہ درپیش ہے، اسرائیل اور امریکا غزہ اور لبنان سمیت مشرق وسطی میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں اور انہیں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے، حماس ایک نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ دوبارہ بھرپور طریقے سے منظر عام پر آئی ہے، پاکستان کے عوام اپنے فلسطینی اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں، 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیرکی ملی یکجہتی کونسل بھرپور حمایت کرتی ہے، پاکستان میں ملی یکجہتی کونسل فلسطین اور کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے بھرپور شرکت کرے گی، اسرائیل کی جانب سے گریٹر اسرائیل کا منصوبہ ناکا م ہو گیا، فلسطینی، لبنانی اور عراقی عوام نے متحد ہو کر اسرائیلی جارحیت کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کی طرف سے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانا غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام ہے، ملی یکجہتی کونسل اسے مسترد کرتی ہے، حکومت پاکستان نے فلسطین کے بارے میں بزدالانہ موقف اختیار کیے رکھا، حکومت آئی ایم ایف سے قرضہ لینا چاہتی تھی، اس لیے اس نے اس مسئلے پر بھرپور آواز نہیں اُٹھائی، غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف حکومت پاکستان نے اپنا کردار ٹھیک طرح سے ادا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سود ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے، ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس میں پنجاب حکومت کے سرکاری اسکولز کو پرائیوٹائز کرنے کی پالیسی کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم جیسے اہم شعبے سے جان چھڑا رہی ہے، ایک طرف حکومت کی شاہ خرچیاں اور اللے تللے جاری ہیں، دوسری جانب تعلیمی اداروں کو پرائیوٹائز کرکے تعلیم کو غریب طلباء کی پہنچ سے دور کیا جا رہا ہے، تعلیمی اداروں میں ناچ گانے اور بے ہودہ پروگرامات کو بھی پنجاب حکومت بند کرے، ہماری نوجوان نسل کو مغربی تہذیب کا دلدادہ اور انہیں دین سے دور کیا جا رہا ہے۔ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے تمام مسالک اور مکاتب فکر کے درمیان اتحاد بین المسلمین اور مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے موثر پلیٹ فارم ہے، اغوا برائے تاوان اور بے امنی عروج پر ہے، لوگ اپنے آپ کو لاوارث اور غیر محفوظ سمجھتے ہیں، اغواء انڈسٹری اور بے امنی کے خلاف ملکی سیاسی اور مذہبی قائدین اپنا کردار ادا کریں، پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت، جغرافیائی اور وسائل کے لحاظ سے اہم ملک ہے، استعماری طاقتیں اسے نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملی یکجہتی کونسل پنجاب محمد جاوید قصوری اجلاس میں نے کہا کہ کے بعد
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
لاہور: اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے تحت پنجاب حکومت نے ایسے شہریوں کے لیے خوشخبری سنائی ہے جو اپنے گھروں کی مرمت، مضبوطی یا توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے اہل درخواست گزاروں کو 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ بغیر سود کے اپنے گھر کی ضروری تعمیراتی ضروریات پوری کر سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد کم اور متوسط آمدن رکھنے والے خاندانوں کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنا اور گھروں کی محفوظ تعمیر و مرمت میں مالی مدد دینا ہے۔
دو مختلف کیٹیگریز میں قرض فراہم کیا جائے گا
اس اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلی کیٹیگری ان افراد کے لیے مختص ہے جو اپنے موجودہ گھر کی چھت کی مرمت، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی یا ضروری تعمیراتی کام کروانا چاہتے ہیں۔ ایسے درخواست گزار 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض حاصل کر سکیں گے، جس کی واپسی 9 سال کے دوران آسان ماہانہ اقساط میں ہوگی۔ اس کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 4 ہزار 700 روپے ہوگی۔
دوسری کیٹیگری ان شہریوں کے لیے رکھی گئی ہے جو اپنے گھر میں توسیع، جیسے دوسری منزل یا اضافی کمروں کی تعمیر، کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دیا جائے گا، جسے بھی 9 سال میں واپس کرنا ہوگا۔ اس قرض کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 9 ہزار 300 روپے ہوگی۔
درخواست کیسے دیں؟
اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے لیے درخواست دینے کے خواہشمند افراد پنجاب حکومت کے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ درخواست جمع کراتے وقت شناختی اور دیگر ضروری دستاویزات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
وہ افراد جو انٹرنیٹ کے ذریعے درخواست نہیں دے سکتے، ان کے لیے متبادل سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ایسے شہری اپنی درخواست متعلقہ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرا سکتے ہیں۔
حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے اپنی تمام معلومات اور دستاویزات مکمل کر لیں تاکہ درخواست کی جانچ کے عمل میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔