Nai Baat:
2026-07-24@01:01:50 GMT

چھ ہاتھوں والا بڑا بُت مکھی بھی نہیں پکڑ سکتا!

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT

چھ ہاتھوں والا بڑا بُت مکھی بھی نہیں پکڑ سکتا!

کونسٹین ٹائن برونزٹ (Konstantin Bronzit) چھوٹی اینی میشن فلموں کے ممتاز روسی ڈائرےکٹر ہےں۔ اُن کی مشہور فلموں مےں or The Round-About Merry-Go-Round، At the Ends of the Earth، Alosha اور Lavatory Lovestory شامل ہیں۔ اپنی پاپولر تخلےقات کے سلسلے مےں وہ تقریباً 70 ایوارڈز بھی حاصل کرچکے ہےں۔ اُن کی فلم Lavatory Lovestory کو اعلیٰ ترےن Best Scenario Award ملا اور اسی فلم کو جےوری نے 2009ءکی مختصر اینی میٹڈ فلموں کی کیٹگری میں ”اکیڈمی اےوارڈ“ کے لیے نامزد بھی کےا۔ ان کی اےک اور 4منٹ 17سےکنڈ کی اینی میٹڈ فلم ”The god“ ریلیز ہوئی۔ اس فلم مےں دےوتا شےوا سے ملتا جلتا اےک مکےنےکل بت دکھاےا گےا ہے جس کے چھ ہاتھ ہےں۔ وہ اپنی قوت اور توازن کے اظہار کے لیے اےک ٹانگ پر کھڑا ہے۔ دوسری ٹانگ اُس نے L کی صورت مےں موڑ کر کھڑی ٹانگ کی ران پر ٹکائی ہوئی ہے۔ اس کے تےن ہاتھ دائےں اور تےن ہاتھ بائےں مضبوط مشےنوں سے جڑے ہوئے ہےں جو طاقت کی علامت ہےں۔ وہ بہت اونچی چٹان پر تانبے کے ایک بڑے سے گول دائرے مےں کھڑا ہے جہاں سے پوری دنےا اس کے قدموں مےں نظر آتی ہے۔ اُسے بڑی محنت اور دلجمعی سے بناےا گےا ہے۔ اُس کے جاہ و جلال اور رعب سے پورا ماحول متاثر ہے۔ اس کی حکومت کی خاموشی سے فرمانبرداری کے اصول کو توڑتے ہوئے اچانک اےک مکھی کی بھن بھن سنائی دےتی ہے۔ مکھی اڑتی ہوئی اس کے دائےں گال پر آکر بےٹھتی ہے، ناک تک پہنچتی ہے، دوبارہ گال پر آتی ہے، پھر اڑ کر اس کے دائےں ہاتھوں مےں سے اےک پر جاتی ہے۔ ےہ بت اب تک مکھی کی حرکات سے بے خبر ہوتا ہے ےا اُسے غےراہم جان کر نظرانداز کرتا ہے۔ مکھی ہاتھ سے اڑ کر جب اس کی کہنی پر بےٹھتی ہے تو وہ ہلکی سی جھرجھری لےتا ہے جس سے متعلقہ بازو سے کچھ گرد اڑتی دکھائی دےتی ہے۔ اس طرح وہ پہلی مرتبہ مکھی کا نوٹس لےتا محسوس ہوتا ہے۔ مکھی بازو سے اڑ کر دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی پر جا بےٹھتی ہے۔ وہ اپنی مشےنی انگلی کو آہستہ آہستہ ہلاتا ہے۔ مکھی شہادت کی انگلی کو چھوڑ کر ران پر ٹکے اس کے پاﺅں کے تلوے پر جا بےٹھتی ہے۔ اب وہ
اپنے چہرے کو دائےں اور پھر بائےں موڑتا ہے جس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ مکھی اڑانے جےسے معمولی کام کے لیے اردگرد سے کسی کو بلانا چاہتا ہو لےکن ماےوس ہوکر واپس اپنی پہلی والی پوزےشن پر آجاتا ہے۔ مکھی چھوٹی سی فلائٹ لےتی ہے اور دوبارہ اسی تلوے پر آجمتی ہے۔ اب کے مکھی کو اےک اور مشغلہ مل جاتا ہے۔ وہ تلوے پر چہل قدمی شروع کردےتی ہے۔ تلوے کی جلد پر مکھی کے چلنے سے بت کے جسم مےں جھرجھرےاں شروع ہو جاتی ہےں۔ اس کے ساتھ ہی چھ ہاتھوں والے بت کے سر پر روشنی کی چمک دکھائی دےتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بت مکھی کے معاملے کو اب سنجےدگی سے لےنے لگا ہے۔ جس پاﺅں کے تلوے پر مکھی بےٹھی ہوتی ہے وہ اس پاﺅں کی انگلےوں کو دو تےن مرتبہ اوپر نےچے کرتا ہے۔ مکھی نہےں اڑتی۔ تب وہ پاﺅں کو زور زور سے جھٹکے دےتا ہے جس سے مکھی اڑ کر اس کے اےک اےسے ہاتھ کی ہتھےلی پر جا بےٹھتی ہے جو تمام ہاتھوں مےں مرکزی حےثےت رکھتا ہے۔ اس ہاتھ کی ہتھیلی پر اےک آنکھ ہوتی ہے۔ مکھی اس آنکھ کی کالی پُتلی پر جا چمٹتی ہے۔ بت پرےشانی اور جھنجھلاہٹ کے عالم مےں اپنے باقی پانچوں ہاتھ اُس ہاتھ کی ہتھےلی پر اکٹھے دے مارتا ہے۔ بت مکھی کو پکڑنے ےا مارنے کی اپنی اس کوشش کا نتےجہ جاننے کے لیے ہاتھوں کو باری باری اٹھاتا ہے۔ جب وہ مرکزی ہاتھ کے اوپر سے آخری ہاتھ اٹھاتا ہے تو مکھی اےک دم سے اڑ جاتی ہے۔ بت مکھی کی اس چالاکی پر احمقوں کی طرح چاروں طرف اپنا سر گھماتا ہے او ر گھبراہٹ مےں اپنے سب ہاتھ اِدھر اُدھر چلانا شروع کردےتا ہے۔ اس عمل سے اُس کے چھ کے چھ ہاتھ آپس مےں الجھ جاتے ہےں اور انہےں گرہ لگ جاتی ہے۔ مکھی اب اس کے ہونٹوں پر جا پہنچتی ہے۔ بت کے ہاتھ الجھے ہونے کے باعث ناکارہ ہوتے ہےں۔ وہ اپنے چہرے کو نےچے جھکاتا ہے تاکہ ہاتھوں کے قرےب کرسکے لےکن بے سود۔ مکھی نہےں اڑتی بلکہ اوپر کی طرف اپنا سفر شروع کردےتی ہے اور سےدھی اس کی ناک مےں جا گھستی ہے۔ اس سے بت کو زور کی چھےنک آتی ہے جس سے وہ سارے کا سارا ہل جاتا ہے اور اس کے الجھے ہوئے ہاتھ خودبخود کھل جاتے ہےں۔ بت اب وحشی ہو جاتا ہے۔ مکھی دائےں طرف تانبے کے فرےم پر جابےٹھتی ہے۔ وہ پوری قوت سے اپنے سارے ہاتھوں کے پنجے اس پر مارتا ہے۔ مکھی صاف بچ نکلتی ہے اور فرےم کے بائےں طرف جا بےٹھتی ہے۔ بت غصے سے آگ بگولا ہوکر اٹھی ہوئی ٹانگ سے اس پر زور سے کک مارتا ہے۔ مکھی کو تو کچھ نہےں ہوتا البتہ تانبے کا فرےم ٹےڑھا ہو جاتا ہے۔ مکھی اڑ کر اس کی ناک کے سوراخ مےں چلی جاتی ہے اور دوسرے سوراخ سے نکلتی ہے۔ مکھی کو ےہ کھےل پسند آتا ہے۔ وہ اےک سوراخ مےں داخل ہوتی ہے اور اندر ہی اندر ہوتی ہوئی دوسرے سوراخ سے نکل کر پھر پہلے سوراخ مےں گھس جاتی ہے۔ بت مکھی کی ان حرکات سے پاگل ہو گےا ہوتا ہے۔ وہ دونوں سوراخوں کو اپنی انگلےوں سے بند کردےتا ہے۔ کچھ دےر بعد جب وہ اےک انگلی ہٹاتا ہے تو مکھی اڑ کر دوبارہ فرےم پر جا بےٹھتی ہے۔ بت اس پر مکا اور اپنا سر مارتا ہے جس سے اسے اچھی خاصی چوٹےں لگتی ہےں۔ مکھی پھر بچ نکلتی ہے اور اس کے اردگرد اڑنا شروع کردےتی ہے۔ بت اپنے جسم کا اےک ٹکڑا توڑتا ہے اور مکھی کو دے مارتا ہے مگر نشانہ خطا ہوتا ہے۔ بت اپنے سارے ہاتھ ہوا مےں گھما گھما کر اڑتی ہوئی مکھی کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اچانک مکھی اس کے اےک ہاتھ مےں آجاتی ہے۔ وہ مٹھی بند کرلےتا ہے۔ بت اس انٹرنےشنل کامےابی پر جھوم اٹھتا ہے اور مست ہوکر ناچنے لگتا ہے۔ ناچتے ناچتے وہ قےدی مکھی کو فاتحانہ انداز سے دےکھنے کے لیے مٹھی کھولتا ہے اور عےن اسی وقت مکھی اس کے ہاتھ سے فرار ہو جاتی ہے۔ بت کے لیے ےہ اےک ناقابلِ ےقےن شکست ہوسکتی ہے۔ اس لیے وہ مکھی کو پکڑنے کے لیے آگے لپکتا ہے۔ اےک پاﺅں پر کھڑا، چھ ہاتھوں والا، متوازن، طاقتور بت اپنا توازن کھو دےتا ہے اور نےچے گمنام گہرائےوں مےں جاگرتا ہے۔ بت کے گرجانے سے فرےم کے اندر خلاءپےدا ہوتا ہے جہاں اےک مکڑی نمودار ہوتی ہے، اپنا جالا بُنتی ہے اور وہی شرارتی خودسر مکھی جونہی اس جالے پر بےٹھتی ہے، مکڑی اسے اپنے منہ مےں دبوچ لےتی ہے۔ مکھی کی سسکےاں سنائی دےتی ہےں اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ ےوں فلم ختم ہوتی ہے۔ حکمران جتنے بھی مضبوط ہوں، اُن کے چاروں طرف جتنی بھی انٹرنےشنل سپورٹ موجود ہو، ان کے طاقتور ہاتھ جتنے بھی زےادہ ہوں، وہ اگر دوسروں کے بنائے ہوئے ہےں، اپنی دھرتی اور عوام سے دور ہےں تو اےک مکھی کو بھی کےفرِکردار تک نہےں پہنچا سکتے کےونکہ چھوٹی سے چھوٹی شے کو بھی پکڑنے کے لیے جاندار ہونا ضروری ہے۔ بت تو بت ہوتا ہے، خواہ کتنا لمبا چوڑا اور مضبوط ہی کےوں نہ ہو، اس مےں جان نہےں ہوتی جبکہ چھوٹی سی مکڑی اپنے شکار کو آسانی سے پکڑ لےتی ہے کےونکہ مکڑی جاندار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nai Baat

کلیدی لفظ: مارتا ہے ہے جس سے مکھی کی مکھی کو جاتا ہے بت مکھی ہوتی ہے جاتی ہے ہاتھ کی ہوتا ہے ہاتھ ا کے لیے ہے اور

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا