’آپریشنز کی ضرورت‘، چیئرمین ایف بی آر کا افسران کے لیے اربوں روپے کی گاڑیاں خریدنے پر اصرار
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اعتراض کے باوجود چیئرمین ایف بی آر کا اربوں روپے کی گاڑیاں خریدنے پر اصرار۔
یہ بھی پڑھیں:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف بی آر کو ایک ہزار سے زائد گاڑیاں خریدنے سے روک دیا
ایف بی آر کی جانب سے افسران کے لیے 6 ارب روپے کی نئی گاڑیوں کی خبر سامنے آنے کے بعد اس پر ہونے والے اعتراضات اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اظہار برہمی کے باوجود چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال گاڑیوں کی خریداری پر مُصر ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس متنازع مسئلے پر چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے اعتراض کا احترام سے شافی جواب دیا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ آپریشنز کیلئے گاڑیوں کی ضرورت ہے، سیلز ٹیکس چیکنگ کیلئے افسر کا وزٹ ضروری ہوتا ہے، نوجوان افسران کیلئے کاریں خریدی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر حکام کو گاڑیوں کی فراہمی کا معاملہ، وزیر خزانہ حمایت میں سامنے آگئے
چیئرمین ایف بی آر کے مطابق ٹیکس اہداف پورےکریں گے۔ کراچی میں بڑی کمپنیز کے ہیڈکوارٹرز ہیں، ملٹی نیشنلزکے بھی ہیڈکوارٹرز ہیں، ٹیکس کلیکشن کا عمل ادھر سے ریکارڈ میں آتا ہے۔
واضح رہے کہ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف بی آر کو اربوں روپے مالیت کی ایک ہزار 10 گاڑیوں کی خریداری سے روک دیا تھا۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے اربوں روپے کی ایک ہزار 10 گاڑیوں کی خریداری کا نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار کرکیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر افسران کو ہدف میں ناکامی پر 6 ارب کی گاڑیاں دی جارہی ہیں، فیصل واوڈا
کمیٹی نے ایف بی آر کو گاڑیوں کی خریداری روکنے کی ہدایت بھی کی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ گاڑیوں کی خریداری چیئرمین ایف بی اربوں روپے ایف بی ا ر ایف بی آر روپے کی
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں