آصف زرداری، بلاول بھٹو پختونوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں، ایمل ولی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملک میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی کمپرومائزڈ ہیں۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے دوستانہ گزارش ہے کہ پختونوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں۔
کراچی میں جلسے سے ایمل ولی خان اور میاں افتخار حسین نے خطاب کیا۔ اس دوران اے این پی سربراہ نے کہا کہ آج پاکستان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی کمپرومائزڈ ہیں، آج تک ہر انتخابات میں دھاندلی ہوئی، خیبر پختونخوا میں 90 فیصد مینڈیٹ دے کر قومی اسمبلی میں کمپرومائزڈ اپوزیشن بنائی گئی۔
اے این پی سربراہ نے مزید کہا کہ کیا آج آپ کے پاس ووٹ کا اختیار ہے، پاکستان کے انتخابات ہمارے سامنے ہیں، 2013ء میں جہاں سب انتخاب لڑ رہے تھے ہم لاشیں اٹھا رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس بار عوام کے مینڈیٹ کو بیچ کر لوگوں کو لاکر اسمبلی میں بیٹھا دیا گیا، خیبر پختونخوا کا 90 فیصد مینڈیٹ غیر ذمہ دارانہ لوگوں کو دیا گیا، ہم بات کرتے ہیں تو ہمیں ایجنٹوں کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
ایمل ولی خان نے یہ بھی کہا کہ ہم اس مشکل میں تاریخی طور پر ظالم اور جابر کے خلاف قوم کے ساتھ کھڑے ہیں، باچا خان اور خدائی خدمت گاروں نے انگریز سامراج کے سامنے آواز اٹھائی۔
انہوں نے کہا کہ باچا خان نے عدم تشدد کا فلسفہ دیا، جس پر ہم آج بھی کاربند ہیں۔ ولی خان کی تاریخ آزاد ہے، اس پر لوگ پی ایچ ڈی کرتے ہیں، آج ہم باچا خان اور ولی خان جیسی قیادت کی یاد میں جمع ہوئے ہیں۔
اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے سر کی قربانیاں دے کر امن کا نعرہ دیا ہے، ہمارے ہر شہید نے سینے پر گولی کھائی ہے، ہم سے کوئی توقع نہ رکھے ہم جمہوریت کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم وسائل اور بچوں کے حقوق پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے، کراچی سب کا شہر ہے، اگر ایک قوم کہے کہ اس پر میرا حق ہے اور کسی کا نہیں تو غلط ہے۔ یہ شہر سندھی، بلوچی سب کا ہے، اس شہر سے کوئی قوم ختم نہیں ہوسکتی ہے۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے دوستانہ گزارش ہے کہ پختونوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ پختونوں کے ساتھ سلوک ٹھیک نہیں رکھیں گے تو کراچی نہیں چل پائے گا۔ ریاست پختونوں کے ساتھ ناروا سلوک نہ رکھے، پورا پاکستان بند کرسکتے ہیں، چابی میرے ورکر کے ہاتھ میں ہے۔ اس قوم کو ایٹم بم کی ضرورت نہیں ہے قلم کی ضرورت ہے۔
میاں افتخار حسین نے کہا خیبر پختونخوا اور بلوچستان آج مشکل سے گزر رہا ہے،باچا خان کے فلسفے پر عمل کرتے تو آج مشکل نہ ہوتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ایمل ولی خان پختونوں کے اے این پی باچا خان
پڑھیں:
سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کا ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئی ہیں، بچیوں کو شہید کیا گیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔ جس طرح رمضان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو، ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں کو شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں، ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دور حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماؤں کی دعاؤں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کو ختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے فوجی اڈوں کو بند کیا۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔ آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام کا ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ تھر کے منصوبے سے تھر کے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شیئر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ سی پیک کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکول کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یو ٹی اور ڈاؤ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشاء اللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔