شدید دھند کے باعث سیالکوٹ موٹروے ایم 11 ٹریفک کے لیے بند
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جنوری2025ء)سیالکوٹ موٹروے ایم 11 کو شدید دھند کے باعث ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ترجمان موٹروے پولیس سید عمران احمد کے مطابق موٹروے کو عوام کی حفاظت اور محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے بند کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھند میں لین کی خلاف ورزی حادثات کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے روڈ یوزرز سے درخواست ہے کہ وہ دھند کے دوران لین ڈسپلن کو یقینی بنائیں۔
(جاری ہے)
موٹروے پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دن کے اوقات میں سفر کرنے کو ترجیح دیں، کیونکہ صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک دھند کے موسم میں بہترین سفری اوقات ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ڈرائیور حضرات کو اپنی گاڑیوں میں آگے اور پیچھے دھند والی فوگ لائٹس کا استعمال کرنا چاہیے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنا چاہیے۔موٹروے پولیس نے تیز رفتاری سے پرہیز کرنے اور اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ عوام کو معلومات اور مدد فراہم کرنے کے لیے ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دھند کے کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔