اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مذاکرات کے راستے بند کرنا جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق پارلیمنٹ ہاوس آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں مذاکرات سے مسائل کا حل نکل ہی آتا ہے، پی ٹی آئی نے اگر مذاکرات میں بیٹھنے سے انکار کیا ہے تو یہ ایک لاحاصل مشق ہے، مذاکرات کے راستے بند ہوتے نظر آرہے ہیں۔
دوسری جانب سے مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ اگر آج پی ٹی آئی مذاکرات کا حصہ نہیں بنتی تو ہم مذاکراتی کمیٹی تحلیل کرنے پر غور کریں گے، سپیکر نے مذاکراتی اجلاس ملتوی نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ قائم مقام چیئرمین پی ٹی آئی کی گفتگو سنی انہوں نے کہا ہم کمیٹی میں نہیں آئیں گے، اگر پی ٹی آئی آتی ہے تو ہم اپنا تحریری جواب ان سے شیئر کریں گے ، اگر پی ٹی آئی مذاکراتی اجلاس میں نہیں آتی تو ان کا حتمی فیصلہ سمجھا جائے گا۔
عرفان صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں نے مذاکرات کا سلسلہ ختم کردیا ہے، کمیٹی کے اندر سات جماعتوں کو قید نہیں کر سکتے، ہم نے پی ٹی آئی کے مطالبات پر تین طویل ملاقاتیں کی ہیں۔ 

ہم دودھ کے دھلے ہوئے تو نہیں لیکن اچھے ہیں، کوئی شکایت ہے تو مجھ سے بات کریں: بلاول

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن