غزہ، 48 گھنٹوں کے دوران 37 شہداء کے جسد خاکی ملبے سے نکالے گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں 48 شہداء کے جسد خاکی لائے گئے۔ ان میں سے 37 کو تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے نکالا گیا۔ جبکہ 11 نئے فلسطینی اسرائیلی جارحیت میں شہید اور 80 زخمی ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں 48 شہداء کے جسد خاکی لائےگئے۔ ان میں سے 37 کو تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے نکالا گیا۔ جبکہ 11 نئے فلسطینی اسرائیلی جارحیت میں شہید اور 80 زخمی ہوئے۔ فلسطینی وزارت صحت نے منگل کو ایک بیان میں تصدیق کی کہ 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک اسرائیلی جارحیت سے شہید ہونے والوں کی تعداد 47,354 ہوگئی ہے جب کہ 111,563 زخمی ہو چکے ہیں۔ وزارت صحت نے کہا کہ ابھی بہت سے متاثرین ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر ہیں اور ایمبولینس اور شہری دفاع کا عملہ ان تک نہیں پہنچ سکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔