ٹرمپ نے ایلون مسک کو سنیتا ولیمز کی زمین پر واپسی کا ٹاسک سونپ دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ارب پتی آجر اور اپنے دستِ راست ایلون مسک کو خلاباز سنیتا ولیمز کو زمین پر واپس لانے کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔ سنیتا ولیمز اور بُچ وِلمور جون 2014 سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پھنسے ہوئے ہیں۔ اُنہیں زمین پر واپس لانے کی متعدد کوششیں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک ایکس پوسٹ میں لکھا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے سنیتا ولیمز اور بُچ وِلمور کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ اب انہیں زمین پر واپس لانا ہماری ذمہ داری ہے۔ میں یہ ذمہ داری اپنے ساتھی ایلون مسک کو سونپ رہا ہوں۔ وہ اپنے ادارے اسپیس ایکس کے ذریعے سنیتا اور بُچ کو واپس لاسکتے ہیں۔
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ سنیتا ولیمز اور بُچ وِلمور کو مارچ میں اسپیس ایکس کے خلائی جہاز کریو 10 کے ذریعے زمین پر واپس لایا جاسکتا ہے۔ انسٹھ سالہ سنیتا ولیمز اور باسٹھ سالہ بُچ وِلمور کو دس روزہ مشن پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن بھیجا گیا تھا۔ وہ 5 جون کو بوئنگ کے خلائی جہاز اسٹار لائنر کے ذریعے روانہ ہوئے تھے۔ تھرشر میں خرابی اور ہیلیم گیس خارج ہونے کے باعث خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا نے اسٹار لائنر کیپسول 7 ستمبر کو واپس بلالیا تھا۔
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت کے مطابق سنیتا ولیمز اور بُچ وِلمور کو خلا سے واپس لانے کا آپریشن جلد شروع کرنے کی تیاریوں کا آغاز ہوگیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ب چ و لمور کو زمین پر واپس ایلون مسک
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔