تحریک انصاف کا مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
تحریک انصاف نے 8 فروری کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے درخواست لاہور انتظامیہ کو جمع کرادی۔
پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی قوت شو کرنے کے لیے مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، 8 فروری کو جلسہ منعقد کرنے کے لیے چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کو مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے جلسے کی اجازت کے لیے تحریری درخواست ڈپٹی کمشنر لاہور کو جمع کروادی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف آٹھ فروری کو گریٹر اقبال پارک گراؤنڈ میں جلسہ کرنے چاہتی ہے جس کے لیے این او سی دیا جائے۔جلسہ کی آرگنائزنگ کمیٹی میں چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ، اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر اور علی اعجاز بٹر شامل ہیں۔تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجازت نہ ملنے کی صورت میں پی ٹی آئی کی جانب سے ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: تحریک انصاف کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔