اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مہنگائی کے ہاتھوں تنگ عوام کی مشکلات یکم فروری سے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے کیوں کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافے پر غور کر رہی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

توقع ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا جائے گا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے فی لیٹر مہنگا ہوجائے گا۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی تیل کی بین الاقوامی قیمتوں کے رجحانات اور شرح مبادلہ کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے کر حکومت کو سمری ارسال کرے گی تاہم اضافہ کرنا ہے یا نہیں اس کا حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے جس کا اعلان 31 جنوری کو ہوگا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 15 روز کے لیے کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ پیٹرول کی موجودہ قیمت 256 روپے 13 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 260 روپے 95 پیسے فی لیٹر ہے۔ 16 جنوری کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بالترتیب 3 روپے 47 پیسے اور 2 روپے 61 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
مزیدپڑھیں:بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ جو کچھ کیا وہ مناسب نہیں تھا، امریکی وفد کے سربراہ کا اعتراف

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں فی لیٹر

پڑھیں:

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔

اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا
  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا