زمینی راستوں کی بندش، کرم کے لوگوں کی آمد و رفت کیلئے ہیلی کاپٹر سروس جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
وزیراعلی کی خصوصی ہدایات پر کرم کے لئے صوبائی حکومت کی ہیلی کاپٹر سروس کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق آج صوبائی حکومت کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کی کل 10 پروازیں ہوئیں، ان پروازوں کے ذریعے 299 افراد کو ائیر ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ زمینی راستے کی بندش کے باعث کرم کے لوگوں کو آمد و رفت میں مشکلات، وزیراعلی کی خصوصی ہدایات پر کرم کے لئے صوبائی حکومت کی ہیلی کاپٹر سروس کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق آج صوبائی حکومت کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کی کل 10 پروازیں ہوئیں، ان پروازوں کے ذریعے 299 افراد کو ائیر ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی گئی۔
پہلی پرواز میں 31 افراد اور ایک ڈیڈ باڈی کو پشاور سے علیزئی منتقل کیا گیا۔ دوسری پرواز میں 38 افراد کو علیزئی سے ٹل منتقل کیا گیا، تیسری پرواز میں 22 افراد کو ٹل سے بوشیرا پہنچایا گیا، چوتھی پرواز میں ایک شخص کو بوشیرا سے صدہ پہنچایا گیا جبکہ پانچویں پرواز صدہ سے تری منگل کے لئے ہوئی جس میں 7 افراد کو ائیر ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چھٹی پرواز کے ذریعے 38 افراد کو تری منگل سے ٹل، ساتویں پرواز میں 33 افراد کو ٹل سے تری منگل پہنچایا گیا، آٹھویں پرواز میں 48 افراد کو تری منگل سے ٹل، نویں پرواز میں 40 افراد کو ٹل سے علیزئی جبکہ دسویں اور آخری پرواز میں 41 افراد کو علیزئی سے پشاور پہنچایا گیا۔ ان پروازوں میں کل 1800 کلوگرام سامان کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت پہنچایا گیا ہیلی کاپٹر پرواز میں افراد کو تری منگل کرم کے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔