آسٹریلیا کا بڑا نقصان، اہم کھلاڑی چیمپیئنز ٹرافی سے آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
آسٹریلوی آل راؤنڈر مچل مارش کمر کی انجری کے باعث چیمپیئنز ٹرافی سے باہر ہو گئے ہیں اور رواں سیزن میں ان کی واپسی کے امکانات نہایت کم ہیں، جس سے ان کے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے شرکت بھی مشکوک ہوگئی ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق مچل مارش کو مسلسل کمر درد اور عدم استحکام کے باعث آئی سی سی مینز چیمپیئنز ٹرافی سے باہر کر دیا گیا ہے۔ نیشنل سلیکشن پینل (NSP) اور آسٹریلوی مینز میڈیکل ٹیم نے انہیں مکمل بحالی کے لیے مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
مارش کے لیے رواں سیزن کافی چیلنجنگ ثابت ہوا۔ بارڈرگواسکر ٹرافی کے دوران وہ صرف 73 رنز بنا سکے اور گیند بازی میں بھی محدود کردار ادا کیا۔ ناقص کارکردگی کے باعث وہ آخری ٹیسٹ میچ می بیؤ ویبسٹر کے حق میں اپنی جگہ کھو بیٹھے تھے۔ ان کی فٹنس پورے 5 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک اہم موضوع بنی رہی۔
مزید پڑھیں: بارڈر گواسکر ٹرافی آسٹریلیا کے نام، انڈیا بدترین شکست کے بعد ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ سے باہر
بی بی ایل (Big Bash League) میں بھی مارش کا سفر مختصر رہا، جہاں انہوں نے 7 جنوری کو ایک میچ کھیلا لیکن پھر چیمپیئنز ٹرافی کی تیاری کے لیے آرام لینے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، ان کی کمر کا مسئلہ مزید سنگین ہو گیا اور کرکٹ آسٹریلیا (CA) کے مطابق، ان کی انجری بحالی کے باوجود بہتر نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے انہیں چیمپیئنز ٹرافی سے باہر کر دیا گیا۔
کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق مارش کو مکمل صحت یابی کے لیے مزید آرام اور بحالی کی ضرورت ہوگی، جس کے بعد ان کی کرکٹ میں واپسی ممکن ہوگی۔ نیشنل سلیکشن پینل جلد ہی مارش کے متبادل کھلاڑی کا انتخاب کرے گا۔
مارش کی غیر موجودگی آسٹریلیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، خاص طور پر چونکہ وہ حالیہ محدود اوورز کے فارمیٹس میں ٹیم کے ایک اہم ستون رہے ہیں۔ آسٹریلوی سلیکٹرز کو ٹیم کمبی نیشن میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی، جبکہ قیادت کے مسائل بھی ٹیم کے لیے ایک نیا چیلنج ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ’آسٹریلیا میں مجھے زہر دیا گیا تھا‘، سربین ٹینس اسٹار نوواک جوکوویچ کا دعویٰ
مارش آسٹریلیا کے ٹی20 کپتان اور ون ڈے ٹیم میں قائم مقام کپتان بھی رہے ہیں، ان کی غیر موجودگی ٹیم کے ٹاپ آرڈر کمبی نیشن پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ان کی جگہ جیک فریزر کو موقع دیا جا سکتا ہے، جو اگرچہ پاکستان کے خلاف کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے تھے، لیکن ان کی جارحانہ بیٹنگ انہیں موزوں متبادل بناسکتی ہے۔
مچل مارش کے دیگر ممکنہ متبادل میں:ول سدرلینڈ جنہوں نے پچھلے سال ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی تھی۔ بیؤ ویبسٹر، جو اگرچہ ابھی تک ون ڈے کرکٹ میں ڈیبیو نہیں کر سکے، لیکن ایک ممکنہ آپشن ہو سکتے ہیں۔
کوپر کونوولی، ایک اسپن بولنگ آل راؤنڈر، اگرچہ آسٹریلیا کے اسکواڈ میں پہلے ہی 4 اسپن بولنگ آپشنز موجود ہیں۔
کیمرون گرین جو اکتوبر میں سرجری کے بعد ابھی تک مکمل فٹ نہیں ہو سکے۔
مارش کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ کپتان پیٹ کمنز بھی ٹخنے کی انجری کا شکار ہیں، جو انہوں نے بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران برداشت کی تھی۔ اگر وہ چیمپیئنز ٹرافی سے قبل مکمل فٹ نہ ہوئے تو آسٹریلیا کو نیا کپتان منتخب کرنا ہوگا۔ متوقع قیادت کے امیدواروں میں شامل ہیں:
اسٹیو اسمتھ فی الحال سری لنکا میں ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔
ٹریوس ہیڈ ٹی20 ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں لیکن ون ڈے میں نہیں۔
جوش انگلس حالیہ ہوم سیریز میں کپتانی کر چکے ہیں
مزید پڑھیں: ڈبلیو ٹی سی رینکنگ: بھارت کا گراف گرگیا، آسٹریلیا پھر سرفہرست
مارش کا حالیہ ریکارڈمارش آسٹریلیا کے 2023 ورلڈ کپ فاتح اسکواڈ کا اہم حصہ تھے، جہاں انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے خلاف شاندار سینچریاں اسکور کیں۔ مارچ 2023 کے بعد سے انہیں مستقل ٹاپ آرڈر میں استعمال کیا جا رہا تھا، جہاں ان کا بیٹنگ اوسط 44.
چیمپیئنز ٹرافی کے لیے ٹیموں کو 11 فروری تک اپنے اسکواڈ میں آزادانہ تبدیلی کی اجازت ہے، اس کے بعد کسی بھی تبدیلی کے لیے آئی سی سی کی ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری درکار ہوگی۔
آسٹریلیا کے آئندہ میچزچیمپیئنز ٹرافی کی تیاری کے طور پر آسٹریلیا 12 اور 14 فروری کو سری لنکا میں دو ون ڈے میچز کھیلے گا۔ لیگ اسپنر تنویر سنگھا کو ڈویلپمنٹ پلیئر کے طور پر گال بھیجا جا رہا ہے، اگرچہ وہ چیمپیئنز ٹرافی اسکواڈ میں شامل نہیں۔ لیفٹ آرم فاسٹ بولر اسپنسر جانسن بھی ون ڈے سیریز کے لیے سری لنکا جا رہے ہیں اور انہیں ممکنہ طور پر پاکستان میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی کے لیے منتخب کیا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلوی آل راؤنڈر آسٹریلوی آل راؤنڈر مچل مارش پیٹ کمنز چیمپیئنز ٹرافی مچل مارش
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آسٹریلوی آل راؤنڈر پیٹ کمنز چیمپیئنز ٹرافی مچل مارش چیمپیئنز ٹرافی سے آسٹریلیا کے سٹریلیا کے اسکواڈ میں ا سٹریلیا ٹرافی کے کی انجری مچل مارش رہے ہیں سے باہر کے بعد کے لیے
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں