معروف برطانوی پاپ گلوکارہ و اداکارہ چل بسیں
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
معروف برطانوی پاپ گلوکارہ اور نغمہ نگار ماریان فیتھ فل 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماریان فیتھ فل کی موسیقی کی تشہیری کمپنی ’ریپبلک میڈیا‘ نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ’انتہائی افسوس کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ گلوکارہ، نغمہ نگار اور اداکارہ ماریان فیتھ فل اس دنیا سے رخصت ہوگئی ہیں‘۔
ماریان فیتھ فل کا میوزک کیریئر اس وقت شروع ہوا جب وہ ایک پارٹی میں رولنگ سٹونز کے مینیجر سے ملیں اور 1964 میں محض 17 سال کی عمر میں ’ایز ٹیئرز گو بائی‘ گانے کو ریکارڈ کیا۔ یہ گانا برطانیہ اور امریکہ میں مقبول ہوا اور اس کے بعد ان کے متعدد ہٹ سنگلز اور دو البمز سامنے آئے۔
View this post on InstagramA post shared by Marianne Faithfull Official (@mariannefaithfullofficial)
گلوکارہ کی موت پر ان کے ساتھی گلوکاروں اور فنکاروں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ میک جیگر نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’وہ میری زندگی کے طویل عرصے تک حصہ رہیں، ایک بہترین دوست، خوبصورت گلوکارہ اور عظیم اداکارہ تھیں۔‘
خیال رہے کہ ماریان کی زندگی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی، وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہوئیں اور کئی عرصے تک بے گھر بھی رہیں، لیکن 1979 میں البم ’بروکن انگلش‘کے ذریعے شاندار واپسی کی۔ بعد میں انہوں نے اپنی زندگی کو سنوارا اور اسے ایک غیر معمولی تجربہ قرار دیا۔
View this post on InstagramA post shared by Marianne Faithfull Official (@mariannefaithfullofficial)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔