پریانکا چوپڑا بھارت کی سب سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے والی اداکارہ بن گئیں
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا پہلی بار مشہور فلم ساز ایس ایس راجامولی کے ساتھ ان کی آنے والی فلم ’ایس ایس ایم بی 29‘ میں اداکاری کے جوہر دکھانے جا رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس فلم میں مہیش بابو مرکزی کردار ادا کریں گے اور اسے ایک عالمی سطح کی ایڈونچر فلم قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پریانکا چوپڑا نے اس بڑے پروجیکٹ کے لیے تقریباً 30 کروڑ روپے کا معاوضہ طلب کیا ہے، جس سے وہ راجامولی کی سب سے مہنگی اداکارہ بن گئی ہیں۔
تاہم بھارتی میڈیا کے مختلف پیجز کی جانب سے سامنے آنے والی اس خبر کی فلم سے منسلک کسی بھی ذرائع نے باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فلم کی شوٹنگ حیدرآباد کی ایلومینیم فیکٹری میں جاری ہے، جہاں مہیش بابو اور پریانکا چوپڑا موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایس ایس راجامولی نے اپنی ٹیم کو مکمل رازداری کے معاہدے پر دستخط کروائے ہیں، جس کے تحت کسی کو بھی موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔
ؤکہا جارہا ہے کہ فلم کی مزید شوٹنگ کینیا کے جنگلات میں ہوگی، راجامولی کی اس فلم ’ایس ایس ایم بی 29‘ دو حصوں میں ریلیز کیے جانے کا امکان ہے۔ پہلا حصہ 2027 جبکہ دوسرا 2029 میں سنیما گھروں کی زینت بنے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس ایس
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :