ہنر مند نرسنگ پروفیشنلز کو امریکا بھیجنے کے سلسلے میں اہم پیش رفت،پاکستانی طبی عملے کی امریکا میں ملازمتوں کے امکانات روشن
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
اسلام آباد (آئی این پی )امریکا کو نرسوں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے دیگر کارکنوں کی کمی کا سامنا ہے اور اس خلا کو پر کرنے کے لیے پاکستان سے افرادی قوت کو بھیجے جانے کے امکانات روشن ہو گئے ۔
میڈیارپورٹ کے مطابق پاکستان سے ہنر مند نرسنگ پروفیشنلز کو امریکا بھیجنے کے سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے اس ضمن میں حال ہی میں واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے، امریکی ڈپلومیٹس، نیویارک اسٹیٹ اسمبلی اور امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی اراکین کی ایک مشترکہ آن لائن میٹنگ میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ، قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی اور نیویارک قونصلیٹ میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی نے شرکت کی۔ نیویارک کی ریاستی اسمبلی کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر فل راموس اور چیف آف اسٹاف کرسٹیان میکاریو نے شرکت کی۔ ایپک کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد اور ایپک کے صدر ڈاکٹر پرویز اقبال بھی موجود تھے۔
شہبازشریف کی پارٹی میں بھی مقبولیت نہیں، عمران خان کو بھی جواب دینا پڑے گا، مفتاح اسماعیل نے سب کا بھانڈا پھوڑدیا
ڈپٹی اسپیکر راموس نے پاکستان میں امتحانی مراکز کھولنے کی اہمیت کو تسلیم کیا جو نرسنگ کے طالب علموں کو اندرون ملک ٹیسٹ دینے کی اجازت دینے کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔ یہ ایک کمپیوٹر پر مبنی امتحان ہے جو نرسنگ گریجویٹ کی پیشہ ورانہ مشق کرنے کی تیاری کا تعین کرتا ہے۔راموس نے امریکا میں صحت کی دیکھ بھال کے قابل پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی مانگ کو اجاگر کیا اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے پاکستان معاونت میں دلچسپی ظاہر کی۔
پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے اس پیش رفت کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ قدم مالی بوجھ کو کم کرے گا اور مزید پیشہ ور افراد کو اس اقدام میں حصہ لینے کی ترغیب دے گا۔انہوں نے بھرتی اور امیگریشن کے عمل کو مقامی صحت کی دیکھ بھال کے مطالبات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ہنر مند نرسوں کے لیے ایک مثر سپلائی چین بنایا جا سکے۔امریکا پاکستان پبلک افیئرز کمیٹی نے اس تعاون کو شروع کرنے میں اپنے کلیدی کردار کا خاکہ پیش کیا جس میں ڈپٹی اسپیکر راموس کے دورہ پاکستان میں سہولت فراہم کرنا بھی شامل تھا۔انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکا میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد خصوصا نرسنگ سیکٹر میں کمی پاکستانی کارکنوں کے لیے ایک قیمتی موقع ہے۔
2 اور ایئر لائنز جلد پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پروازیں شروع کرنے کیلئے تیار، اعلان جلد متوقع
اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ہموار پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ جماعتوں کے نمائندے باقاعدگی سے فالو اپ میٹنگز کریں گے۔ڈاکٹر اعجاز احمد نے امریکک پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی ٹیم کی اجتماعی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس پیش رفت کو پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کا ایک سنگ میل قرار دیا۔امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی کے نئے صدر ڈاکٹر پرویز اقبال نے شمالی امریکا میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی مانگ کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام پاکستان کو اپنی طبی افرادی قوت کو تربیت اور برآمد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
مریم نواز کے ٹوئیٹ پر شرجیل میمن کا جواب آگیا
انہوں نے کہا کہ اس سے امریکی صحت کی دیکھ بھال کے نظام اور عالمی کیریئر کے متلاشی پاکستانی پیشہ ور افراد دونوں کو فائدہ ہوگا۔امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی کے مطابق یہ اقدام عالمی طبی برادری میں پاکستان کے تعاون میں ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتا ہے اور کمیٹی کے وژن اور باہمی تعاون کی کوششوں کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پیشہ ور افراد امریکا میں پیش رفت کرنے کی کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔