مراکش کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والا عمران ٹوٹے ہاتھوں کے ساتھ اپنے گھر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
مراکش کشتی حادثہ میں زندہ بچ جانے والا 3 بچوں کا باپ عمران اقبال اپنے گھر گاؤں گجو پہنچ گیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پنجاب کے اضلاع گجرات، منڈی بہاالدین اور حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے مزید 8 زندہ بچ جانے پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ایف آئی اے کے ترجمان نے بتائی ہے جن کا کہنا ہے کہ ان پاکستانیوں کو مراکش بھجوانے والے انسانی اسمگلرز کی بھی شناخت ہو گئی ہے، جس کے بعد ایف آئی اے کی جانب سے ان انسانی اسمگلر ز کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔واپس آنے والوں انتہائی غربت کی زندگی گزارنے والا تین بچوں کا باپ عمران اقبال بھی شامل ہے، عمران اقبال کا کہنا ہے کہ زندگی کے آٹھ روز ہم پر قیامت بن کر ٹوٹے جو زندگی بھر ایک ڈرونا خواب بن کر ہمارے ساتھ رہیں گے۔ٹوٹے ہاتھوں کے ساتھ ظلم کی داستان بیان کرتے ہوئے عمران اقبال کی آواز کئی گفتگو خوف درد کے باعث اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔واضح رہے کہ 16 جنوری کو مغربی افریقہ کے راستے غیر قانونی طور پر اسپین جانے والی کشتی حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم واکنگ بارڈرز نے کہا ہے کہ مغربی افریقہ سے کشتی کے ذریعے اسپین پہنچنے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہوئی۔مراکش کے حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز حادثے کا شکار ہونے والی تارکین وطن کی ایک کشتی سے 36 افراد کو بچایا گیا جس میں 86 تارکین وطن سوار تھے، جن میں 66 پاکستانی بھی شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عمران اقبال
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔