بالی ووڈ کے اداکار ارجن کپور نے ملائیکہ اروڑا سے تعلقات ختم ہونے کے مہینوں بعد اپنی شادی کے منصوبے کے بارے میں اشارہ دے دیا ہے۔

ارجن کپور اس وقت اپنی فلم ’’میرے ہسبینڈ کی بیوی‘‘ کی پروموشن میں مصروف ہیں، اس دوران انھوں نے میڈیا کو اپنی شادی کے منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

فلم ’’میرے ہسبینڈ کی بیوی‘‘ کی پروموشن کے دوران بالی ووڈ اداکار سے ان کی اپنی شادی سے متعلق سوال کیا گیا تھا، جس پر جواب دیتے ہوئے ارجن نے کہا کہ ’’جب وقت آئے گا تو آپ سب کو بتاؤں گا‘‘۔

        View this post on Instagram                      

A post shared by Pinkvilla (@pinkvilla)

اداکار نے کہا کہ جب شادی کا وقت آئے گا تو وہ اس خبر کو مداحوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں گے۔

ارجن کپور نے مزید کہا کہ میں نے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کافی باتیں کی ہیں، لیکن آج ہم صرف فلم کی بات کریں گے، کیونکہ یہ فلم کے جشن کا وقت ہے۔

ارجن کپور، راکول پریت سنگھ اور بھومی پڈنیکر جلد ہی اپنی آنے والی رومانٹک کامیڈی فلم ’’میرے ہسبینڈ کی بیوی‘‘ میں ایک ساتھ نظر آئیں گے۔ اس فلم کی ریلیز سے قبل یہ تینوں اداکار اس وقت فلم کی پروموشن میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی ارجن کپور نے اداکارہ ملائیکہ اروڑا سے اپنے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ارجن کپور نے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ