ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کی ماہ جنوری کی کارکردگی رپورٹ جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2025 سب نیوز

ڈیرہ اسماعیل خان (محمد ریحان ) ریسکیو 1122 ڈیرہ نے ماہ جنوری 2025 کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی ،ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 خیبرپختونخوا ڈاکٹر آیاز خان، ریجنل ڈائریکٹر آپریشنز سائوتھ عمران خان یوسفزئی کی سربراہی میں اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر فصیح اللہ کی نگرانی میں ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان نے ماہ جنوری میں کل 882 مختلف نوعیت کے حادثات میں بروقت رسپانس کرتے ہوئے ایمرجنسی میں سروسز فراہم کیں.

ریسکیو 1122 ڈیرہ کو 2025 کے پہلے مہینے کے دوران مجموعی طور پر 100285 فون کالز موصول ہوئی جن میں سے 68924 غیر ضروری اور فیک کالز اور 30479 معلوماتی و ادھوری فون کالز شامل تھیں۔ ریسکیو1122ڈیرہ کے ترجمان اعزاز محمود کی جاری رپورٹ کے مطابق ماہ جنوری 2025 کے دوران ریسکیو 1122 ڈیرہ نے 651 میڈیکل، 183 روڈ ٹریفک حادثات، 15 آگ لگنے کے واقعات، 14 لڑائی جھگڑے اور گولی لگنے، 02 ڈوبنے کے واقعات اور 17 ریکوری و دیگر واقعات پر بروقت رسپانس کرتے ہوئے مجموعی طور پر 851 مریضوں کو باحفاظت ہسپتال منتقل کیا اور موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی.

اس کے علاوہ ریسکیو 1122 ڈیرہ نے ماہ جنوری 2025 میں انٹرا ہاسپٹل ریفرل سروسز کے ذریعہ سے کل 98 ایمرجنسیوں پر رسپانس کرتے ہوئے 89 مریضوں کو اندرون ضلع،ضلع بھر کی مختلف تحصیل کے ہسپتالوں سے ڈی ایچ کیو ڈیرہ منتقل کیا جبکہ 9 واقعات میں ڈی ایچ کیو ڈیرہ سے ملتان، پشاور اور اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ اس دوران کل 101مریض ریسکیو 1122ریفرل سروس سے مستفید ہوئے.ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر فصیح اللہ کی قیادت میں ریسکیو1122 ڈیرہ اسماعیل خان کی ٹریننگ ونگ ٹیم نے گزشتہ ماہ مختلف محکموں اور تعلیمی اداروں میں 396سے زائد افراد کو ریسکیو 1122 کے متعلق شعور و آگاہی کی بیداری سمیت، ابتدائی طبی امداد، آگ سے بچا ئو اور حفاظتی تدابیر سمیت مختلف اہم نکات پر تربیت فراہم کی ،ماہ جنوری 2025کے دوران ریسکیو1122 ڈیرہ کا اوسط رسپانس ٹائم سات منٹ 15 سیکنڈ رہا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ڈیرہ اسماعیل خان ریسکیو 1122 ڈیرہ ماہ جنوری

پڑھیں:

ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ

آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔

بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔

اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔

مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے