اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وگوں کی ویڈیوز اکثر اس وقت وائرل ہوتی ہیں جب لوگ معاشرتی روایات یا ان کی توقعات کے برخلاف کرتے ہیں اور بھارتی نژاد برطانوی شہری نیہر سچدیوا نے بالکل ایسا ہی کیا ہے۔

سر کے بالوں کو خوبصورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر کسی وجہ سے سر پر بال نہ ہوں تو لوگ مذاق اُڑاتے ہیں، خاص طور پر اگر لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہو تو یہ سوال کیا جاتا ہے کہ “گنجی لڑکی سے شادی کون کرے گا؟

لوگوں کی ویڈیوز اکثر اس وقت وائرل ہوتی ہیں جب لوگ معاشرتی روایات یا ان کی توقعات کے برخلاف کرتے ہیں اور بھارتی نژاد برطانوی خاتون نیہر سچدیوا نے بالکل ایسا ہی کیا ہے۔

نیہر سچدیوا کی شادی کی ویڈیو نے سوشل میدیا پر تیزی سے توجہ حاصل کرلی ہے جب وہ ایک شاندار سرخ لہنگا پہنے دُلہے کے پاس جارہی تھیں اور اس کے بعد انہوں نے اپنا دوپٹہ ہٹا دیا اور فخریہ انداز سے اپنا گنجا سر ظاہر کیا۔

نیہر سچدیوا نے اپنی شادی کے موقع پر اپنا گنجا پن چھپا نہیں رہی تھیں بلکہ اسے دِکھا رہی تھیں جو کہ دیگر گنجی خواتین کیلئے ایک قابل فخر اور جرات مندانہ اقدام ہے۔

بھارت میں پیدا ہونے والی اور امریکا میں رہائش پذیر نیہار سچدیو نے 19 جنوری 2025 کو ارون وی گنپتی سے شادی کی ہے۔

جوڑے نے ”ہیپی ویڈنگ“ کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے شادی کی تعریف میں کیپشن لکھا ہے۔ بغیر ویگ کے سرخ رنگ کے جوڑے میں نیہار انتہائی خوبصورت لگ رہی ہیں، جبکہ آیوری شیروانی میں ارون کا انداز شاہی نظر آ رہا ہے۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی ہے جسے بہت سے لوگوں نے اسے دیگر گنجی دلہنوں کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیا ہے۔

خاتون میں چھ ماہ کی عمر میں ہی ایلوپیشیا کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جو جسم یا سر پر بالوں کے جھڑنے کا سبب بنتی ہے یہ عارضی یا مستقل ہو سکتا ہے اور ایک چھوٹے سے حصے یا پورے جسم کو متاثر کر سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:چیمپئنز ٹرافی: پاک بھارت میچ کے ٹکٹس ایک گھنٹے میں ہی بک گئے، قیمت کیا ہے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں

امریکی ریاست نیو میکسیکو کے شمالی علاقے میں واقع ایک قومی جنگل سے گزشتہ ہفتے ملنے والی انسانی باقیات کی شناخت میلیسا کاسیاس کے طور پر کر لی گئی ہے، جو تقریباً ایک سال قبل لاپتا ہو گئی تھیں۔

حکام کے مطابق وہ لاس الاموس نیشنل لیبارٹری سے وابستہ سائنسدان تھیں۔

میلیسا کاسیاس ان کم از کم 10 افراد میں شامل ہیں جو حالیہ برسوں میں امریکا کے حساس جوہری اور خلائی تحقیقاتی منصوبوں سے وابستہ رہے اور یا تو ہلاک ہوئے یا پراسرار طور پر لاپتا ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی جوہری اور خلائی پروگرام سے وابستہ 10 سائنسدانوں کی پراسرار ہلاکت، ٹرمپ کا تحقیقات کا حکم

ان واقعات نے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے اور سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کو بھی ہوا دی ہے۔

نیو میکسیکو اسٹیٹ پولیس کے مطابق 28 مئی کو ایک سیاح نے کارسن نیشنل فاریسٹ کے میک گیفی رج علاقے میں انسانی باقیات دریافت کیں۔

یہ مقام کاسیاس کے شہر تاؤس میں واقع گھر سے تقریباً 15 میل کے فاصلے پر ہے۔ باقیات کے ساتھ ایک ہینڈگن بھی ملی۔

The 53-year-old woman was one of 10 dead or missing scientists and staffers linked to sensitive federal nuclear and aerospace research. https://t.co/mZ36EeDyYF pic.twitter.com/bgAIBGm5PT

— KTLA (@KTLA) June 3, 2026

ریاستی دفتر برائے میڈیکل انویسٹی گیٹر نے باقیات کی مثبت شناخت کر لی ہے، تاہم تاحال موت کی وجہ اور نوعیت کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

حکام کے مطابق دریافت شدہ باقیات کے مزید بشریاتی معائنے کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: سائنسدانوں کی بڑی تعداد امریکا کیوں چھوڑنا چاہتی ہے؟

54 سالہ میلیسا کاسیاس کو آخری بار جون 2025 میں نیو میکسیکو کے علاقے ٹالپا کے قریب ایک شاہراہ پر پیدل چلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق وہ اپنا پرس، شناختی دستاویزات اور موبائل فون گھر پر چھوڑ گئی تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے ایک فون کو فیکٹری ری سیٹ بھی کیا گیا تھا۔

کاسیاس 26 جون 2025 کو اس وقت لاپتا قرار دی گئیں جب وہ کام پر نہ پہنچیں اور اپنی بیٹی کے دفتر جانے کے بعد گھر واپس بھی نہ آئیں۔

اس وقت حکام نے کہا تھا کہ کسی مجرمانہ کارروائی کے شواہد نہیں ملے تھے۔

مزید پڑھیں: امریکا کے خفیہ بائیو لیب پروگرام پر ایک دہائی سے جاری تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں امریکا کے حساس جوہری اور خلائی تحقیقاتی منصوبوں سے وابستہ میلیسا کاسیاس سمیت کم از کم 10 افراد ہلاک یا پراسرار طور پر لاپتا ہو چکے ہیں۔

اسی طرح لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کے ایک اور ریٹائرڈ ملازم انتھونی شاویز بھی مئی 2025 میں لاپتا ہو گئے تھے، تاہم پولیس کے مطابق اس معاملے میں بھی کسی مجرمانہ کارروائی کے آثار نہیں ملے۔

دیگر واقعات میں ایک ریٹائرڈ امریکی فضائیہ کے میجر جنرل کی گمشدگی اور کیلیفورنیا میں ایک ماہر فلکیات کے قتل کا واقعہ بھی شامل ہے۔

ان معاملات کے تناظر میں امریکی کانگریس کی ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی نے اپریل میں حساس سائنسی معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد کی اموات اور گمشدگیوں کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں:

امریکی ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ محکمہ توانائی اور دیگر وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا ان واقعات کے درمیان کوئی ممکنہ تعلق موجود ہے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی سائنسدان امریکی فضائیہ ایف بی آئی پُراسرار شناختی دستاویزات قومی جنگل کانگریس لاس الاموس محکمہ توانائی نیشنل فاریسٹ نیشنل لیبارٹری نیو میکسیکو

متعلقہ مضامین

  • لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں
  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں