بلوچستان میں شادی شدہ جوڑے کے سفاکانہ قتل کیخلاف سینیٹ میں قرارداد منظور، جے یو آئی کی مخالفت
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
سینیٹ نے بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں جرگے کے حکم لڑکے اور لڑکی کی موت کیخلاف قرارداد منظور کرلی، جس کی جے یو آئی کے علاوہ سب نے حمایت کی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس میں بلوچستان میں شادی شدہ جوڑے کے سرعام قتل پر پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے قرارداد پیش کی۔
قرارداد کے متن میں لکھا گیا کہ ایوان بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والے جوڑے کی مذمت کرتے ہے، جرگہ میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اس طرح کے جرائم کی روک تھام ہونی چاہیے، پاکستان کے تمام شہریوں کی قانون و آئین کے مطابق حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔
سینیٹ نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی جبکہ جے یوآئی نے اس قرارداد کی حمایت نہیں کی۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں عید الاضحیٰ سے دو روز قبل لڑکی اور لڑکے کو پسند کی شادی کرنے پر گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا جس کی ویڈیو چار روز قبل سامنے آئی۔
اس واقعے کے بعد پولیس نے ساتکزئی قبیلے کے سردار کو مبینہ طور پر قتل کا حکم دینے پر گرفتار کیا اور سردار اس وقت دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے پاس ہے۔
دوسری جانب مقتولہ بانو کی ماں سے گزشتہ روز اپنی بیٹی کے قتل کا دفاع کرتے ہوئے سردار سمیت تمام ملزمان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جس کو پولیس نے آج گرفتار کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔