ٹرمپ کے ٹیکسوں کی بھرمار سے ایشیائی ممالک کی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
ٹوکیو/بیجنگ /سڈنی /واشنگٹن ( خبرایجنسیاں +مانیٹرنگ ڈیسک ) ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیکسوں کی بھرمار سے ایشیائی اوریورپی ممالک کی اسٹاک مارکٹس پر بھی پڑ رہے ہیں۔ایشائی مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہیں جب کہ ٹرمپ کی نئی ٹیرف پالیسی کے اطلاق کے پہلے روز امریکا میں بھی اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان ہے۔میسکیو کی صدر کلاڈیا شینبام نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر نے ان کے ملک کے لیے
محصولات میں 25 فیصد اضافے کو ایک ماہ کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔چین نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں امریکا کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے ۔جاپان اور جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں 2 فیصد سے زائد گراوٹ دیکھی گئی جب کہ سنگاپور کی اسٹاک مارکیٹ میں بھی شدید مندی کا رجحان رہا۔بھارت سمیت دیگر ایشیائی ممالک کی مارکیٹ بھی بے یقینی کا شکار ہیں۔ سرمایہ کار انتظار کرو اور نظر رکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی اسٹاک مارکیٹ میں بھی صورت حال کوئی بہت اچھی نہیں ہے ۔یورپی یونین کی کرنسی یورو 2 سال کی کم ترین سطح پر آگئی۔ چینی یوان اور کینیڈین ڈالر کی قدر میں بھی ریکارڈ کمی ہوئی۔ علاوہ ازیں اب تک سب سے مستحکم سمجھے جانے والے سوئنس فرینک کی قدر میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ادھر برسلز میں یورپی رہنماؤں کی ایک میٹنگ کے بعد یورپی یونین کی فارن پالیسی چیف کاجا کالاس نے صحافیوں سے کہا ہے کہ تجارتی جنگوں میں جیتنے والا کوئی نہیں ہوتا،اگر امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ ہے تو پھر ایک طرف کھڑا اگر کوئی ہنس رہا ہے تو وہ چین ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی اسٹاک مارکیٹ میں بھی
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔