بھارت(نیوز ڈیسک)بھارت میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جہاں جھگڑے کے بعد جوڑے کو پولیس اسٹیشن میں شادی کرنا پڑگئی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سورت شہر میں ایک جوڑے کی شادی کا آغاز تو ہال میں ہوا تاہم اس کا اختتام تھانے میں ہوا۔شادی ہال میں جوڑے کی شادی کی تمام رسومات مکمل ہوگئی تھیں لیکن صرف گلے میں ہار ڈالنے باقی تھے کہ شادی کو اچانک روک دیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس شادی میں دُلہا کے گھر والوں نے مبینہ طور پر تقریب میں کھانا ختم ہونے کی وجہ سے اسے روکا۔

،ڈپٹی کمشنر کے مطابق دونوں خاندانوں میں کھانے کی مبینہ کمی پر جھگڑا ہوا جس کے بعد دُلہا کے خاندان نے شادی کی باقی رسم کرنے سے انکار کردیا جس پر دُلہن دُلہا کے خاندان کے رویے سے پریشان ہوئی اور انہوں ن پولیس سے رابطہ کیا۔ڈی سی کے مطابق لڑکی نے بتایا کہ لڑکا شادی کے لیے تیار ہے لیکن اس کے گھر والے راضی نہیں ہیں، اس سارے معاملے کے بعد اس کے حل کے لیے دُلہا اور دُلہن سمیت ان کے گھر والوں کو بھی پولیس اسٹیشن بلایا گیا۔

پولیس کی مداخلت اور مدد کے بعد دُلہا کے خاندان نے شادی کو مکمل کرنے پر رضامندی ظاہر کی تاہم یہاں بھی یہ کیس مکمل طور پر حل نہیں ہوا کیونکہ دُلہن نے شادی ہال میں واپس آنے کی صورت میں دوبارہ لڑائی کا امکان ظاہر کیا جس پر پولیس نے جوڑے کو شادی کی بقیہ رسمیں تھانے ہی میں مکمل کرنے کی اجازت دی اور پھر دونوں کی شادی تھانے میں انجام پائی۔

پشین: درمان ہسپتال میں گیس لیکیج کا دھماکا، 7 افراد زخمی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے مطابق ہال میں کے بعد

پڑھیں:

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی، 
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈیفنس فیز 5 میں گھر کی بیسمنٹ سے 53 سالہ شخص کی لاش برآمد
  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا