Daily Mumtaz:
2026-06-03@07:01:58 GMT

نیب اور پی پی آر اے(PPRA) کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT

نیب اور پی پی آر اے(PPRA) کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نیب ہیڈ کوارٹراسلام آباد میں قومی احتساب بیورو اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیرٹی اتھارٹی کے درمیان مفا ہمتی سمجھوتے پر دستخط کئے گئے۔
مفاہمتی سمجھوتے کی تقریب میں چیئرمین نیب لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد، ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر، پراسیکیوٹر جنرل احتساب سید احتشام قادرشاہ،اور منیجنگ ڈائریکٹرپی پی آر اے(PPRA) حسنات احمد قریشی نے شرکت کی۔
سمجھوتے پر ڈائریکٹر جنرل نیب(اے اینڈ پی) اظہار احمد اعوان اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ای- پیڈز (e-PADS)شیخ افضال رضا نے دستخط کئے

سمجھوتے کا مقصد ای- پیڈز (e-PADS)کے حوالے سے دونوں اداروں کے باہمی تعاون پر مبنی معلومات کے تبادلے، منصفانہ شفاف مقابلے، پبلک پروکیورمنٹ کے عمل کا ایسا نظام وضع کرنا ہے جس سے دونوں اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے شفافیت اور احتساب میں اضافہ کیا جا سکے اور یہ وضع کردہ نظام و طریقہ کار بدعنوان اور جعلساز عناصر کے لیے خوف کی علامت ہو۔ مفاہمتی سمجھوتے کے مطابق دونوں ادارے اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ وہ پبلک پریکیورمنٹ سے متعلقہ دیگر اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کریں گے، بدعنوانی اور جعل سازی کی روک تھام کے لیے رہنما اصول تیار کرنے میں مدد دیں گے اور ماضی کے مقدمات کے کامیاب تجربات کو مد نظر رکھتے ہوئے پروکیورمنٹ سے متعلق پالیسیز اور پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کے حوالے سے معاونت کریں گے۔

پرو کیورمنٹ کے حوالے سے کسی قسم کی شکایات پر پی پی آر اے اس شکایت کو متعلقہ ٹینڈر اور معہ بولی دہندگان کی تفصیلات سمیت اپنے تجزیہ کے ساتھ ضروری کاروائی کے لیے نیب کو بھیجے گا۔اس مفاہمتی سمجھوتے کے مطابق نیب افسران کی پبلک پروکیورمنٹ کے بارے میں پی پی آر اے مفت تربیتی سیشن منعقد کرے گا۔اسی طرح نیب کی طرف سے بھی پی پی آر اے کے افسران کی بھی پبلک پروکیورمنٹ میں بدعنوانی کی روک تھام کے لیے مفت تربیت فراہم کی جائے گی۔ پرو کیور منٹ سے متعلق بولی میں حصہ لینے والوں اور پبلک پریکیورمنٹ سے متعلق اداروں کے قانونی ضوابط کار مستحکم کرنے کے لیے بھی دونوں ادارے باہمی تعاون سے اصول وضح کریں گے تاکہ بد عنوانی کی روک تھام ہو سکے – ایسی اصلاحات کو بھی فروغ دیا جائے گا جس سے پرو کیورمنٹ کے عمل میں احتساب کا انتظام مضبوط تر ہو سکے۔

مفاہمتی سمجھوتے کے مطابق دونوں ادارے نیشنل الیکٹرانک پروکیورمنٹ ڈیٹا بیس کے قیام کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں گے- اس مقصد کے لیے پی پی ار اے مرکزی ڈیٹا بیس تیار کرے گا جس میں پروکیورمنٹ سے متعلق اعداد و شمار ٹینڈرز اور بولی کے حوالے سے بھی معلومات شامل ہوں گی۔مفاہمتی سمجھوتے سے پبلک پروکیورمنٹ کے تمام متعلقہ اداروں میں پروکیورمنٹ قوانین و ریگولیشنز اور اخلاقی معیار سے متعلق آگاہی عام کی جائے گی۔

قبل اذیں پی پی آر اے کی ٹیم نے ای پیڈز (e-PADS)اور پی پی آر اے سسٹم (PPRA)کے بارے میں ایک تفصیلی برفینگ دی۔

چیئرمین نیب نے اس موقع پرسرکاری خریداری کے روائتی نظام کو خودکار نظام پر منتقل کرنے کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے پبلک پروکیورمنٹ کے پورے عمل میں شفافیت آئے گی اور احتساب ممکن ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ مفاہمت کے سمجھوتے کا مقصد پبلک پروکیورمنٹ کے عمل کو ہر ممکن حد تک بد عنوانی کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے جو طریقہ کار اور قواعد وضوابط وضع کئے جائیں گے ان سے بدعنوانی کے سد باب میں مدد ملے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے حوالے سے پی پی آر اے کریں گے کے لیے

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے