عمران کے خط پر آرمی چیف کے رد عمل کا خیر مقدم کرینگے،بیرسٹر گوہر،کوئی خط نہیں ملا ،بات سیاستدانوں سے کریں،سیکورٹی زرائع
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
راولپنڈی/اسلام آباد (خبرایجنسیاں+ مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کو لکھ خط پر ان کی طرف سے کوئی رد عمل آتا ہے تو اس کا خیر مقدم کریں گے۔منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا
سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف سے ایک میٹنگ ہوئی تھی جو امن و عامہ پر تھی، اس کے سوا کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا انہوں نے آرمی چیف کو خط لکھا، میں نے اب تک یہ خط پڑھا یا دیکھا نہیں ، بانی پی ٹی آئی نے خط کے مندرجات خود پڑھ کر سنائے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ان کی طرف سے خط پرردعمل آتا ہے تو ہم خیرمقدم کریں گے۔دوسری جانب سیکورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کو کوئی خط موصول نہیں ہوا اور اسے وصول کرنے کا رتی برابر بھی شوق نہیں۔2 روز قبل عمران خان نے اپنے بیان میں آرمی چیف کو خط لکھنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم سیکورٹی ذرائع نے اس بات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ سیکورٹی ذرائع نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ایک نامعلوم خط لکھنے کے معاملے کو تحریک انصاف کا ایک اور ناکام ڈراما قرار دیا۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق اول تو اس طرح کا کوئی خط ملا ہی نہیں اور اگر ایسا کوئی خط ہے بھی تو اسٹیبلشمنٹ کو اْسے وصول کرنے کا رتی بھر بھی شوق نہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی یہ بات واضح طور پر بتاچکی ہے کہ اگر کسی بھی معاملے پر بات کرنی ہے تو سیاست دانوں سے کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی سیکورٹی ذرائع ا رمی چیف کو کوئی خط
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔