کسٹم نے 97 کروڑ روپے کی ٹیکس و ڈیوٹی چوری پکڑ لی، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
کراچی:
کسٹمز پوسٹ کلیئرنس آڈٹ ساؤتھ نے ایکسپورٹ فیسیلٹیشن اسکیم کے تحت 97کروڑ روپے مالیت کی ڈیوٹی وٹیکسوں کی چوری کے ایک اور بڑے فراڈ کو بے نقاب کرتے ہوئے دو صنعتی یونٹس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ڈائریکٹر پوسٹ کلیئرنس آڈٹ ساؤتھ شیراز احمد نے موصولہ خفیہ اطلاع پر میسرز ایم ڈی انڈسٹریز اور میسرز دینار انڈسٹریز کیخلاف تحقیقات کا آغاز کیا۔
تحقیقات کے دوران دونوں کمپنیاں ایکسپورٹ فیسیلٹیشن اسکیم کے غلط استعمال میں ملوث پائی گئیں۔ تحقیقات کے دوران کمپنیوں کے برآمدی طریقہ کار نے اس وقت شکوک و شبہات کو جنم دیا جب مذکورہ کمپنی کی جنوری 2025 میں ماہانہ درآمدات اچانک ایک کنٹینر سے بڑھ کر 47 کنٹینرز تک پہنچ گئی اور کمپنی کے مکمل معائنے سے انوینٹری میں تضادات بھی سامنے آئے۔
کمپنیوں کی جانب سے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے تحت درآمد ہونے والے ایک ہزار 550 میٹرک ٹن لیڈانگٹس میں سے صرف 111 میٹرک ٹن برآمد کیے گئے، اس طرح سے ای ایف ایس کے تحت درآمد ہونے والے باقی ماندہ خام مال کو مقامی مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کیا گیا۔
بعد از کلیئرنس آڈٹ کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ درآمد ہونے والے 2 ہزار 751 میٹرک ٹن خام مال میں سے صرف 307 میٹرک ٹن کے ذخائر کمپنی کے گودام میں موجود پائے گئے، تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک کمپنی اپنے برانڈ سے سیسے کی انگوٹھیاں تیار کررہی تھی، جسے بعدازاں دوسری کمپنیوں کے نام سے برآمد کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران اس امر کی نشاندہی ہوئی کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے تحت درآمد ہونے والے خام مال کی مجموعی مالیت ایک ارب 60 کروڑ روپے ہے جبکہ غائب ہوئے سامان کی مالیت 87 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے۔
اس طرح سے مذکورہ کمپنیوں نے مجموعی طور پر 97 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کے ڈیوٹی وٹیکسوں کی چوری کی۔
دونوں کمپنیوں کے این ٹی این اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبرز ایف بی آر کی ٹیکس دہندگان کی فہرست میں معطل پائے گئے۔ جس پر کسٹمز پوسٹ کلیئرنس آڈٹ ساؤتھ نے مقدمہ درج کرکے جعلی برآمدات کی تحقیقات کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: درا مد ہونے والے تحقیقات کے اسکیم کے کے دوران میٹرک ٹن کے تحت
پڑھیں:
100 روپے کا موبائل لوڈ کروانے پر اصل بیلنس کتنا ملتا ہے؟ ٹیکس کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
اسلام آباد: 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے، یہ سوال اکثر موبائل صارفین کے ذہن میں آتا ہے۔ پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والے لاکھوں پری پیڈ صارفین ہر ریچارج پر مختلف ٹیکس ادا کرتے ہیں، جس کے باعث مکمل رقم بطور بیلنس دستیاب نہیں ہوتی۔
موجودہ ٹیکس نظام کے مطابق اگر کوئی صارف 100 روپے کا موبائل لوڈ کرواتا ہے تو اس کے موبائل اکاؤنٹ میں استعمال کے لیے صرف 72 روپے 77 پیسے کا بیلنس دستیاب ہوتا ہے، جبکہ 27 روپے 23 پیسے مختلف ٹیکسوں کی مد میں منہا کر لیے جاتے ہیں۔
100 روپے کے لوڈ پر کتنی کٹوتی ہوتی ہے؟
سرکاری ٹیکس نظام کے مطابق سب سے پہلے 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 13 روپے 4 پیسے کٹ جاتے ہیں۔
اس کے بعد باقی رہ جانے والی رقم پر 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کیا جاتا ہے، جس کے باعث مزید تقریباً 14 روپے 19 پیسے کی کٹوتی ہوتی ہے۔
یوں مجموعی طور پر 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے کا جواب یہ ہے کہ صارف کو صرف 72.77 روپے ہی استعمال کے لیے ملتے ہیں۔
پری پیڈ صارفین پر زیادہ بوجھ
ماہرین کے مطابق پری پیڈ موبائل صارفین مجموعی طور پر تقریباً 34.5 فیصد ٹیکس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 20 کروڑ سے زائد موبائل صارفین موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد پری پیڈ کنکشن استعمال کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل سروسز اور انٹرنیٹ پر زیادہ ٹیکس عائد ہونے سے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ کم آمدنی والے صارفین کے لیے رابطے اور انٹرنیٹ کی سہولت مزید مہنگی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موبائل سروسز پر ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ ڈیجیٹل خدمات کے استعمال میں بھی اضافہ ممکن ہے۔