دریائے سندھ پر ڈاکا ڈالنے سے سندھ مکمل بنجر ہوجائے گا، ڈاکٹر قادرمگسی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
ٹنڈو محمد خان (نمائندہ جسارت)سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے عوامی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے پانی نہیں ہوگا تو آبی و جنگلی حیات بھی ختم ہوجائیں گی پنجاب سیراب اور سندھ بنجر ہے ہمارے پاس سندھ دریا کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں اگر اس پر بھی ڈاکہ ڈالا گیا تو پھر سندھ بنجر ہوجائے گا چولستان کو سیراب کرنے کیلئے دو سو گیارہ ارب کا بجٹ بھی سندھ نے دینے کا وعدہ کیا یہ فیصلہ صدارتی محل کے ایک اجلاس میں کیا گیا اس منصوبے کو واٹر ویڑن 2025کا نام دیا گیا گریٹرز ؛کینالز کا کام مشرف نے شروع کیا جس کے خلاف ہم نے بھرپور جدوجہد کی مشرف اپنے آٹھ سالہ دور میں یہ کینالز پورے نہ کرسکا پھر زرداری نے سعودیہ سے فنڈز لیکر ان گریٹر کینالز کے فیز ون کا کام مکمل کیا اب یہ فیز ٹو پر کام کیلئے پر تولے جارہے ہیں نواز شریف نے کہا کالا باغ بنا تو دوسرا ایٹمی دھماکہ کالا باغ پر کرینگے مشرف نے کہا کہ ہم ہر صورت کالا باغ ڈیم تعمیر کرینگے اللہ نے مدد کی تو ہم نے اس ڈیم کے خلاف جدوجہد کی اور کامیاب ہوئے سندھ کے پانی پر چوری کی جارہی ہے ڈیڑھ کروڑ ایکڑ زمین کارپوریٹ زراعت کے تحت آباد کرنے کیلئے سب کیا جارہا ہے۔سندھ میں جو سیلاب آتے ہیں۔وہ وزیر اعلی سندھ کی کینال کھولنے کی منظوری سے آتے ہیں ان کو پنجاب کو پانی دینا ہے اس لئے سندھ کو دو کینالز کا لالی پاپ دیا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔