UrduPoint:
2026-07-24@13:43:07 GMT

غزہ پٹی کا کنٹرول امریکی ’ملکیت‘ میں، ٹرمپ کی تجویز

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT

غزہ پٹی کا کنٹرول امریکی ’ملکیت‘ میں، ٹرمپ کی تجویز

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 فروری 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ غزہ سے فلسطینیوں کو ’’مستقل طور پر‘‘ کہیں اور آباد کیا جا سکتا ہے اور امریکہ اس علاقے پر کنٹرول حاصل کر کے اسے اپنی ملکیت میں لے سکتا ہے۔

انہوں نے یہ باتیں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیں، جو ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی کے بعد وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی رہنما ہیں۔

عرب ممالک کا غزہ سے فلسطینیوں کی مجوزہ بےدخلی کے خلاف خط

ٹرمپ اور نیتن یاہو نے کیا کہا؟

مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاہو کے ساتھ بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ غزہ پٹی کی ’’ملکیت‘‘ حاصل کرے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا، ’’امریکہ غزہ پٹی پر قبضہ کر لے گا اور ہم اس کے ساتھ ایک کام بھی کریں گے۔

ہم اس کے مالک بن جائیں گے۔ اور خطے میں موجود تمام خطرناک اور ان پھٹے بموں اور دیگر ہتھیاروں کو ختم کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔‘‘

ٹرمپ نے علاقے میں واشنگٹن کے کردار کو ’’طویل المدتی ملکیت کی پوزیشن‘‘ کے طور پر بیان کیا۔ ٹرمپ نے غزہ کو ’’ترقی‘‘ دینے کا وعدہ کیا اور کہا کہ سعودی عرب بھی اس میں ’’مددگار‘‘ ہو گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی پوزیشن نہیں لی، تاہم امکان ہے کہ وہ اگلے ماہ اس بارے میں کوئی اعلان کریں گے۔

جنگ بندی کے دو ہفتے بعد غزہ میں امدادی کارروائیاں عروج پر

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ بھی معاہدہ کرنا پسند کریں گے لیکن اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔


اسی پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاہو نے ’’وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کو اسرائیل کا اب تک کا سب سے بڑا دوست‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدہ کر لے گا۔ ان کا کہنا تھا، ’’میرے خیال میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان امن نہ صرف ممکن ہے، بلکہ میرے خیال میں تو ایسا ہونے والا ہے۔

‘‘" ٹرمپ کا غزہ کے فلسطینیوں کو ’مستقل طور پر‘ کہیں اور آباد کرنے کا مشورہ

ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا کہ فلسطینیوں کو غزہ سے کسی اور مقام پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا، ’’میں اس بات کی توقع کرتا ہوں کہ ہم واقعی کچھ بہتر اور اچھا کر سکتے ہیں، جہاں سے وہ واپس نہیں آنا چاہیں گے۔

‘‘ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو ’’مستقل طور پر‘‘ کہیں اور آباد کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے غزہ کے علاقے کو ’’مسمار شدہ جگہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آخر ’’وہ (فلسطینی) واپس کیوں آنا چاہیں گے؟ یہ جگہ تو جہنم جیسی رہی ہے۔‘‘

نیتن یاہو کا دورہ امریکہ، غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر بات چیت متوقع
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا، ’’آپ اس وقت غزہ میں رہ ہی نہیں سکتے۔

مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ایک اور جگہ کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک ایسی جگہ ہونا چاہیے جو لوگوں کو خوش رکھے۔‘‘

اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے ایک منصوبہ تجویز کیا تھا، جس میں بے گھر فلسطینیوں کو غزہ سے باہر اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک جیسے کہ مصر اور اردن میں منتقل کیا جانا شامل تھا۔ البتہ قاہرہ اور عمان دونوں ہی اس تجویز کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔

فلسطینیوں کی نقل مکانی پر ’مشرق وسطیٰ کے ممالک سے بات چیت‘ کا دعویٰ

نیوز کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا ہے اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے خیال میں ’’وہ اس سوچ کے حامی بھی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’دوسرے رہنما اس خیال کو پسند کرتے ہیں۔

‘‘

جنگ بندی ڈیل کے تحت مزید تین یرغمالیوں کی رہائی ہفتے کو

حیران کن بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے محض ایک دن قبل ہی پانچ عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اور ایک سینیئر فلسطینی اہلکار نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایک مشترکہ مکتوب بھیجا تھا، جس میں غزہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے کسی بھی منصوبے کی مخالفت کی گئی ہے۔

اس مکتوب پر اردن، مصر، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ اور فلسطینی صدر کے مشیر حسین الشیخ کے بھی دستخط ہیں۔ قبل ازیں امریکی میڈیا ادارے ایکزیئس نے اس کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ گزشتہ ویک اینڈ پر قاہرہ میں اعلیٰ سفارت کاروں کی ایک میٹنگ کے بعد اس ’’زبردستی نقل مکانی‘‘ کے خلاف سخت علاقائی مخالفت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنا 'ناقابل قبول'، جرمن چانسلر

سعودی عرب کا فلسطینیوں کی ’آزاد ریاست‘ کے قیام پر اصرار

ٹرمپ اور نیتن یاہو کی اس مشترکہ پریس کانفرنس کے فوری بعد سعودی عرب نے کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک تعلقات پر راضی نہیں ہوگا، جب تک مشرقی یروشلم کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست قائم نہیں کی جاتی۔

ریاض میں سعودی وزارت خارجہ نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا، ’’سعودی عرب ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی انتھک کوششیں جاری رکھے گا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، اور اس کے بغیر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرے گا۔‘‘

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے ریاض کا موقف ’’غیر متزلزل‘‘ اور ’’ناقابل گفت و شنید‘‘ ہے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی مملکت ’’فلسطینی باشندوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتی ہے۔‘‘

شمالی غزہ کے بے گھر فلسطینی واپسی کے بعد بھی بے گھر

یہ بیان اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے اس اعتماد کے اظہار کے بعد سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات بہت ہی جلد معمول پر آ جائیں گے۔

جب ٹرمپ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہا ہے، تو اوول آفس میں نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھے ہوئے ٹرمپ نے جواب دیا: ’’نہیں، وہ تو نہیں کر رہے ہیں۔‘‘

اسی پر ریاض حکومت نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’سعودی عرب کی بادشاہت اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہ غیر متزلزل موقف ناقابل گفت و شنید ہے اور اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

دیرپا اور منصفانہ امن کا حصول فلسطینی عوام کے بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق جائز حقوق کے حصول کے بغیر ناممکن ہے۔ اس سے قبل بھی سابق اور موجودہ امریکی انتظامیہ دونوں پر یہ بات واضح کی جا چکی ہے۔‘‘

مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر اتفاق، بے گھر فلسطینی شمالی غزہ میں واپس گھروں کی طرف

غزہ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات

منگل کی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان موجودہ جنگ بندی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

نیتن یاہو کے واشنگٹن پہنچنے سے قبل ہی ان کے دفتر نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کے لیے ایک اسرائیلی وفد وہاں بھیجیں گے۔

نیتن یاہو نے مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی جس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’اسرائیل اس ہفتے کے آخر میں دوحہ روانہ ہونے کے لیے ورکنگ لیول کے ایک وفد کی تیاری کر رہا ہے، تاکہ معاہدے کے مسلسل نفاذ سے متعلق تکنیکی تفصیلات پر بات چیت کی جا سکے۔

‘‘

یہ اعلان حماس کے ایک حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں اس نے امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں شمولیت کے لیے اپنی تیاری کی تصدیق کی تھی۔
ص ز/ ج ا، م م (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مشترکہ پریس کانفرنس کے پریس کانفرنس کے دوران غزہ سے فلسطینیوں فلسطینیوں کی فلسطینیوں کو نیتن یاہو کے انہوں نے کہا کیا جا سکتا نے کہا کہ خیال میں کے ساتھ سکتا ہے بے گھر کے لیے کے بعد اس بات

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل