رائے ونڈ، پولیس اہلکاروں کا خاتون کو برہنہ کرکے مبینہ تشدد، زیادتی کا نشانہ بھی بنایا،برہنہ ویڈیو بناتے رہے
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
رائے ونڈ، پولیس اہلکاروں کا خاتون کو برہنہ کرکے مبینہ تشدد، زیادتی کا نشانہ بھی بنایا،برہنہ ویڈیو بناتے رہے WhatsAppFacebookTwitter 0 5 February, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )رائے ونڈ میں پولیس اہلکاروں کے خاتون کو برہنہ کرکے مبینہ تشدد کرنے کے واقعہ کا انکشاف ہوا ہے، تشدد کرنے والا ایک اہلکار پکڑا گیا، دوسرا فرار ہوگیا۔رائے ونڈ میں پولیس اہلکاروں نے خاتون کو برہنہ کرکے مبینہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، اہلکاروں نے ساتھیوں سے مل کر خاتون کو مبینہ زیادتی کا بھی نشانہ بنایا۔
اے ایس پی سردار عثمان کا کہنا تھا کہ واقعہ کا مقدمہ تھانہ رائے ونڈ سٹی میں درج کرلیا، ملوث پولیس اہلکارابوبکر کوگرفتارکر لیا، جبکہ دوسرے اہلکار کی تلاش جاری ہے۔سنگین واقعہ کی فوری اطلاع اعلی افسران کو نہ دینے پر چوکی انچارج کو بھی معطل کر دیا گیا، واقعہ کی تمام کارروائی کی نگرانی ڈی آئی جی آپریشنز خود کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خاتون کو برہنہ کرکے مبینہ تشدد پولیس اہلکاروں
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔