دنیا بھر کی طرح پاکستان سے بھی ہر ماہ ہزاروں افراد عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ سعودی حکومت نے حال ہی میں سعودی عرب کا سفر کرنے والوں کے لیے ایک نئی شرط رکھی تھی جس کے تحت 10 فروری کے بعد سعودی عرب آنے والے تمام افراد کو پولیو ویکسین اور گردن توڑ بخار کی ویکسین کا سرٹیفیکیٹ دکھانا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

سعودیہ حکومت کے اس اعلان کے بعد ملک بھر سے گردن توڑ بخار کی ویکسین جسے مینجائٹس کہا جاتا ہے وہ غائب ہو گئی تھی، کسی بھی بڑے شہر میڈیکل سٹور یا سپلائر کے علاوہ یہ ویکسین کہیں دستیاب نہیں تھی جس سے عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے والے شدید پریشانی کا شکار تھے۔ اگر کسی ایک میڈیکل سٹور یا ڈسٹریبیویٹر کے پاس یہ ویکسین تھی بھی تو وہ ایک ڈوز جس کی قیمت 5 ہزار روپے ہے اور وہ اس کے 10 سے 12 ہزار روپے وصول کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیےپاکستان اور سعودی عرب میں حج معاہدہ، کیا نئی سہولیات ملیں گی؟

سرکاری ہسپتالوں اور دیگر کا کہنا تھا کہ لوگ ویکسین لے کر  ہمارے پاس آ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ ویکسین لگا کر ہمیں منجائٹس یعنی گردن توڑ بخار ویکسین کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے۔

سعودی حکومت کی اس شرط کے باعث ہر طرف لوگ مینجائٹس یعنی گردن توڑ بخار کی ویکسین کی تلاش میں مارے پھر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستانی عازمین حج کے لیے خوشخبری، حج پیکجز میں مزید کمی کا اعلان

گزشتہ روز سعودی حکومت نے گردن توڑ بخار کی ویکسین لازمی قرار دینے کے نوٹیفکیشن کو معطل کر دیا اور قرار دیا کہ اس ویکسین کو فی الحال معطل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی محکمے صحت ’کاگا‘ نے بھی نوٹیفکیشن جاری کیا۔ اب عمرہ زائرین کو صرف پولیو سائٹ کی ضرورت ہے جو کہ بہ آسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان پولیو سعودی عرب عمرہ زائرین گردن توڑ بخار ویکسین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پولیو گردن توڑ بخار ویکسین کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • شلمچہ بارڈر پر امریکی حملوں کے باعث زائرینِ اربعین حسینیؑ کی شہادت کیخلاف کراچی میں احتجاج
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس