میری ٹائم سیکٹر کا اصلاحاتی منصوبہ، پاکستان میری ٹائم اینڈ سی پورٹ اتھارٹی کے قیام کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
وزیراعظم شہبازشریف نےسمندری شعبے کی مکمل بحالی کے لیے جامع اصلاحاتی منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت پاکستان میری ٹائم اینڈ سی پورٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
منصوبے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی عملدرآمد کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، کمیٹی کی سربراہی وزیردفاع کریں گے جبکہ دیگر اداروں کےاعلیٰ افسران بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی گوادر پورٹ کو کمرشل بنیادوں پر آپریشنلائز کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت
کمیٹی کا اجلاس ہر 15 روز بعد ہوگا جس میں تمام منظور شدہ اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی کی جائےگی، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیم نو، نیشنل پورٹس ماسٹر پلان کی تجدید اور بندرگاہوں کے ٹیرف کو یکساں معیار پرلایاجائےگا۔
اصلاحات کے تحت بندرگاہوں کی ڈیجٹلائزیشن اور آبی زراعت سمیت دیگر شعبوں پر خاص توجہ دی جائے گی، اصلاحاتی منصوبےکےتحت مختلف بندرگاہوں پر نئےٹرمینلز کی تعمیر بھی کی جائےگی۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کی گوادر پورٹ کو کمرشل بنیادوں پر آپریشنلائز کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کو میری ٹائم سیکٹر میں سالانہ 5 کھرب روپے کا نقصان ہو رہا ہے، جس کی وجوہات میں بندرگاہوں کی مکمل صلاحیت کا استعمال نہ کرنا، ٹیکس چوری اور جعلی بلنگ شامل ہیں۔
اس ضمن میں ماہرین کے نزدیک پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سسٹم کے غلط استعمال کی وجہ سے ہو رہا ہے، دوسری جانب میری ٹائم سیکٹر میں ٹیکس چوری کی وجہ سے سالانہ 1120 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ملکی ایئرپورٹس کی توسیع اور اپگریڈیشن کے لیے اقدامات جاری
معاشی ماہرین نے میری ٹائم سیکٹر میں اصلاحات کے جامع منصوبے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ اصلاحاتی منصوبے پر عملدرآمد اور بندرگاہوں کی ڈیجیلائزیشن سے ملکی معیشت میں واضح بہتری آئےگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبی زراعت اصلاحات افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بندرگاہوں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ٹیکس چوری ڈیجٹلائزیشن معاشی ماہرین میری ٹائم میری ٹائم سیکٹر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اصلاحات افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بندرگاہوں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ٹیکس چوری معاشی ماہرین میری ٹائم میری ٹائم سیکٹر میری ٹائم سیکٹر کے لیے
پڑھیں:
آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
آسٹریلیا نے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ہونے والے آکس دفاعی معاہدے کے تحت جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب امریکی ڈالر (4.6 ارب آسٹریلوی ڈالر) مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کے بجائے استعمال شدہ ورجینیا آبدوزیں دے گا
آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے جمعہ کو بتایا کہ یہ رقم جنوبی آسٹریلیا کے شہر اوسبورن میں قائم شپ یارڈ پر خرچ کی جائے گی تاکہ ملک کی مستقبل کی جوہری آبدوزوں کی تیاری، دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے مقامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آکس معاہدہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس پر عملی طور پر کام جاری ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق یہ سرمایہ کاری آسٹریلیا کو اپنی مستقبل کی آبدوزوں کی تیاری، آپریشن، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے خودمختار دفاعی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
آکس معاہدہ کیا ہے؟آکس معاہدہ 2021 میں آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیے: سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم
اس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا کو تین جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کرے گا جبکہ بعد ازاں آسٹریلیا اور برطانیہ مل کر سنہ 2040 کی دہائی میں نئی نسل کی جوہری آبدوزیں تیار کریں گے۔
منصوبے پر خدشات بھی برقراراگرچہ آسٹریلیا اس منصوبے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے تاہم اس پر مسلسل سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں آبدوزوں کی سست رفتار پیداوار کے باعث خدشہ ہے کہ آسٹریلیا کو مطلوبہ وقت پر یہ آبدوزیں دستیاب نہیں ہو سکیں گی۔
اخراجات میں مزید اضافہآکس معاہدہ آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے مہنگا دفاعی منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے جس پر آئندہ 30 برسوں میں تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق آسٹریلیا کو امریکا سے 2 استعمال شدہ اور ایک نئی جوہری آبدوز ملنی تھی تاہم مئی 2026 میں اس منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تینوں آبدوزیں امریکی بحریہ میں پہلے سے زیر استعمال جہازوں میں سے فراہم کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: پاکستانی طلبا آسٹریلیا کی اسکالرشپ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا انتظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ کم لاگت اور عملی ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا کا جوہری آبدوزوں کا منصوبہ آکس معاہدہ آسٹریلیا امریکا برطانیہ