یونیورسل سروس فنڈ پورے پاکستان میں 2 ہزار کلومیٹر آپٹیکل فائبر کیبل بچھائے گا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
امریکی حکومت کا پروگرام یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) پاکستان میں مالی سال 2024-25 کے لیے آنے والے منصوبوں کے تحت 2000 کلومیٹر طویل آپٹیکل فائبر کیبل (او ایف سی) بچھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹار لنک کی سروسز پاکستان میں کب تک دستیاب ہوں گی؟ خوشخبری آگئی
اس بات کی اطلاع یو ایس ایف نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کو دی۔ یہ اقدام یو ایس ایف کے جاری آپٹیکل فائبر پروگرام کا حصہ ہے جو نومبر 2020 میں شروع ہوا تھا اور اس کے تحت یونین کونسلز کی سطح پر گہری فائبرائزیشن کی جار ہی ہے۔
اب تک 17 بڑے او ایف سی پروجیکٹ شروع کیے گئے ہیں جو 884 یونین کونسلز کو 9,068 کلومیٹر فائبر سے جوڑتے ہیں۔ موجودہ موبائل براڈ بینڈ (3G/4G) نیٹ ورکس اور مستقبل میں 5G کی توسیع کے لیے ضروری بیک ہال فراہم کرتے ہیں۔
یو ایس ایف کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں 5G سروسز کا آغاز زیر التوا ہے کیونکہ کمرشل نیٹ ورک کے رول آؤٹ کا انحصار آپریٹرز کے کاروباری منصوبوں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے لائسنسنگ پر ہے۔ ضروری لائسنس جاری ہونے کے بعد 5G بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور اس کے مطابق ڈیزائن پروجیکٹس کے لیے غیر محفوظ اور غیر محفوظ علاقوں کی نشاندہی کرے گا۔
مزید پڑھیے: فائر وال کی تنصیب کے بعد انٹرنیٹ کی رفتار کو کس طرح بہتر کیا جاسکتا ہے؟
یو ایس ایف کے مطابق ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کی کوششیں 2 اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں جن میں فزیکل ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کو پھیلانا اور ڈیجیٹل خواندگی، مواد کی لوکلائزیشن اور عوامی تعلیم کو بہتر بنانا شامل ہیں جبکہ یو ایس ایف کے منصوبے بنیادی طور پر موبائل براڈ بینڈ اور فائبر بیک ہال کے اقدامات کے ذریعے کنیکٹیویٹی پر توجہ دیتے ہیں۔ یو ایس ایف کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کے لیے تعلیم، سماجی اقتصادی مداخلت، اور نتیجہ پر مبنی حکومتی پالیسیاں سمیت وسیع تر اقدامات کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیے: ’بہت فنکار شارک ہے جو بار بار پاکستانی کیبل ہی کو نشانہ بناتی ہے‘، انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے پر صارفین کے تبصرے
یو ایس اف کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ اس کے پروجیکٹ کنیکٹیویٹی کے فرق کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن سنہ 2030 تک ڈیجیٹل تقسیم کو مکمل طور پر ختم کرنا اور اس کی واحد صلاحیت سے باہر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپٹیکل فائبر او ایف سی یو ایس ایف یونیورسل سروس فنڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: او ایف سی یو ایس ایف یونیورسل سروس فنڈ یو ایس ایف کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔