اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 فروری 2025ء) بدھ پانچ فروری کو شیخ حسینہ نے اپنے ایک آن لائن خطاب میں ڈھاکہ کی موجودہ حکومت پر غیر آئینی طور پر اقتدار پر قبضہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بنگلہ دیش کی موجودہ عبوری حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔

سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ گزشتہ سال پرتشدد مظاہروں اور بغاوت کے بعد ملک سے فرار ہو کر بھارت پہنچ گئی تھیں۔

ان مظاہروں اور تشدد کے سبب 1000 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین براہ راست پروازوں کی بحالی کا امکان

ڈھاکہ سے موصولہ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے اس بارے میں اپنے بیان میں کہا کہ اس کی جانب سے ڈھاکہ میں بھارت کے قائم مقام ہائی کمشنر کو ایک احتجاجی نوٹ جاری کیا گیا ہے جس میں ''شیخ حسینہ کے آن لائن خطاب پر گہری تشویش، مایوسی اور شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ساتھ ہی ہائی کمشنر سے کہا گیا ہے کہ وہ باہمی احترام اور ایک دوسرے کے موقف کو سمجھتے ہوئے شیخ حسینہ کو ان کے بھارت میں قیام کے دوران جھوٹے اور من گھڑت اور اشتعال انگیز بیانات دینے سے روکے۔‘‘

بُدھ کو شیخ حسینہ کے بھارت سے نشر ہونے والے آن لائن خطاب کے موقع پر ڈھاکہ میں ہزاروں مظاہرین اکٹھا ہوئے اور انہوں نے اپنے احتجاج کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے شیخ حسینہ کے خطاب میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔

مظاہرین نے اس موقع پر بنگلہ دیش کے بانی اور شیخ حسینہ کے والد مجیب الرحمان کے گھر کی عمارت کو آگ لگا دی اور اُسے منہدم کر دیا۔

روئٹرز کے مطابق بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کی طرف سے احتجاجی نوٹ درج کروائے جانے پر شیخ حسینہ کا تبصرہ لینے کے لیے ان سے رابطہ قائم نہ ہوسکا۔ اُدھر بھارت نے بنگلہ دیش سے موصول ہونے والے نوٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ڈھاکہ میں مجیب الرحمان کے گھر کو نقصان پہنچانے کو '' غارت گری‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔


بنگلہ دیش: 2009ء کی بغاوت میں گرفتار 178 فوجی رہا کر دیے گئے

رندھیر جیسوال کا کہنا تھا،''یہ واقعات افسوسناک ہیں .

.. وہ تمام لوگ جو آزادی کی جدوجہد کی، جس نے بنگلہ دیش کی شناخت اور قومی شعور کو پروان چڑھایا، قدر کرتے ہیں، اس رہائش گاہ کی اہمیت سے واقف ہیں۔‘‘

ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمان کے جس گھر کو نقصان پہنچایا گیا اسی میں ''1971 ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان ہوا تھا۔

‘‘

بعد ازاں مجیب الرحمان کی فیملی کے زیادہ تر افراد کو اسی گھر کی چار دیواری کے اندر قتل کر دیا گیا تھا۔ شیخ حسینہ نے اس عمارت کو ایک میوزیم میں تبدیل کرتے ہوئے اسے اپنے والد کی میراث کے طور پر وقف کر دیا تھا۔

بنگلہ دیش کا شیخ حسینہ کو بھارت سے واپس لانے کا عزم

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے پریس آفس کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے جمعرات کو کہا تھا، '' مجیب الرحمان کی رہائش گاہ پر حملہ حسینہ واجد کے پرتشدد رویے کا ردعمل تھا۔

‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ''حکومت کو امید ہے کہ بھارت اپنی سرزمین کو بنگلہ دیش میں عدم استحکام کے مقاصد کے لیے استعمال ہونے اور شیخ حسینہ کو بولنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘‘

بنگلہ دیش، پاکستان کے مابین مفاہمت کے بھارت پر ممکنہ اثرات

بنگلہ دیش گزشتہ برس اگست میں شیخ حسینہ کا تختہ الٹے جانے اور ان کے ملک سے فرار ہو کر بھارت پہنچنے کے بعد سے مسلسل سیاسی عدم استحکام، مظاہروں اور اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے اور ڈھاکہ کی عبوری حکومت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہے۔

ک م/ا ب ا (روئٹرز)

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مجیب الرحمان بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ کے ڈھاکہ میں

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار