سی ڈی ایف مالدیپ افواج کا جی ایچ کیو کا دورہ، آرمی چیف سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
راولپنڈی( ڈیلی پاکستان آن لائن ) مالدیپ کی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس فورسزمیجر جنرل ابراہیم ہلمی نے جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی کا دورہ کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق اپنے دورے کے دوران میجر جنرل ابراہیم ہلمی نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران دوطرفہ دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تفصیلی بات کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف عاصم منیر اورمیجر جنرل ابراہیم ہلمی نے دونوں اطراف سے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان بھائی چارے اور دوستی کے پائیدار بندھنوں پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ دونوں نے اہم علاقائی امور پر اپنے مشترکہ نقطہ نظر پر زور دیا اورباہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کا اعادہ کیا گیا۔ترجمان پاک فوج نے مزید بتایا کہ مالدیپ کے چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارتوں اور لگن کو سراہا۔
قبل ازیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہنگری کے نائب وزیردفاع تھامس ورگھا نے جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی کا دورہ کیا ہے اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماو¿ں نے بدلتے علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اوردفاع اور سلامتی کے مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کی اہمیت پر زوردیا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج قربانیوں کا اعتراف کیا ہے۔
عالیہ حمزہ کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاک فوج
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔