نریندر مودی آئندہ ہفتے امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے: وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
نریندر مودی آئندہ ہفتے امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے: وزارت خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 February, 2025 سب نیوز
نئی دہلی (آئی پی ایس )انڈیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نریندری مودی اگلے ہفتے امریکہ کے دورے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انڈین سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی ان گنے چنے عالمی رہنماں میں شامل ہوں گے جو صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکہ کا دورہ کریں گے۔انڈیا کے سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ اس دورے سے نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ دوطرفہ دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کے لیے تبادلہ خیال کا موقع ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی صدر ٹرمپ سے دوطرفہ تعلقات پر ملاقات بھی ہوگی۔وکرم مسری نے کہا کہ حالیہ برسوں میں یہ ہماری مضبوط ترین بین الاقوامی پارٹنرشپس میں سے ایک ہے۔ اور وزیراعظم کا دورہ نئی امریکی انتظامیہ سے فوری رابطوں کے اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی ان عالمی رہنماں میں شامل تھے جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ انتخابی کامیابی پر ان کو فوری مبارکباد کو پیغام بھیجتے ہوئے ڈیئر فرینڈ لکھا تھا۔ انہوں نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے قریبی رابطوں اور ساتھ کام کے خواہشمند ہیں۔جنوری میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نریندر مودی نے لکھا تھا کہ میں ایک بار پھر مل کر کام کرنے کی راہ دیکھ رہا ہوں جو دونوں ملکوں کے فائدہ مند ہو، اور جو دنیا کے بہتر مستقبل کی تشکیل کا راستہ ہموار کرے۔تاہم گزشتہ ماہ کے اختتام پر وائٹ ہاس کے مطابق نریندر مودی سے فون کال پر گفتگو میں صدر ٹرمپ نے ان پر شفاف تجارتی تعلقات پر زور دیا تھا۔امریکہ کے صدر ٹرمپ کو دنیا بھر میں اس وقت تجارتی تعلقات کے حوالے سے اپنے سخت مقف کو پیش کرنے پر تنقید کا بھی سامنا ہے۔
صدر ٹرمپ اور نریندر مودی نے فون پر گفتگو میں کواڈ گروپ کو مزید مضبوط بنانے پر بھی کی تھی جس میں آسٹریلیا اور جاپان بھی شامل ہیں، اور اس گروپ کو چین کے خلاف تجارتی سطح پر محاذ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔انڈیا رواں سال کے دوران اس گروپ کے رہنماں کے اجلاس کی میزبانی بھی کرے گا۔انڈیا اور امریکہ کے رہنماں کو ان کے ناقدین آمرانہ رجحانات والے رہنما قرار دیتے ہیں۔ اور ان دونوں رہنماں نے گزشتہ دور اقتدار میں سنہ 2017 تا سنہ 2021 قریبی مراسم استوار کیے تھے۔انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے سنہ 2017 اور سنہ 2019 میں امریکہ کے دورے کیے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔