اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 فروری2025ء ) الیکشن کمیشن نے پتن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ پر ردعمل دے دیا جس میں گزشتہ انتخابات میں ہیرا پھیری، جبر اور دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ملکی اداروں کو بدنام کرنے کی سازش قرار دے دیا گیا۔ ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق پتن کے ایک نمائندے کا انٹرویو اور پتن کی پریس ریلیز سراسر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، اگر کسی کے پاس بے ضابطگیوں کا اتنا مواد موجود ہے تو وہ متعلقہ امیدواروں اور متاثرہ فریقین کو مہیا کریں تاکہ وہ ٹربیونلز کے سامنے پیش کریں اور پٹیشنز پر قانون کے مطابق درست کاروائی ہوسکے۔

اپنے بیان میں ترجمان ای سی پی نے کہا کہ ریٹرننگ افسران سے جو بھی فارم 46، 45 اور47 الیکشن کمیشن کو موصول ہوئے ان کو الیکشن کمیشن نے بغیر کسی ردوبدل کے اپنی ویب سائٹ پر آویزاں کیا جو آج تک موجود ہیں اور اِس سلسلے میں متاثرہ فریقین نے اپنی الیکشن پٹیشنز قانون کے مطابق الیکشن ٹریبونلز میں دائر کی ہوئی ہیں جن کی سماعت جاری ہے اور کچھ ٹربیونلز نے فریقین کا مؤقف سننے کے بعد پٹیشنز پر فیصلے بھی کردیئے ہیں۔

(جاری ہے)

الکیشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ووٹرز کا ٹرن آوٹ الیکشن کمیشن کی سالانہ اور پوسٹ الیکشن رپورٹ میں شامل ہے جو قانون کے مطابق شائع کی جا رہی ہیں، خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے کسی قسم کا تبصرہ کرنا مناسب نہ ہوگا کیوں کہ یہ معاملہ زیر سماعت ہے اور الیکشن کمیشن اس معاملے پر آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

الکیشن کمیشن سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پتن کی رپورٹ ادارے کا مؤقف جانے بغیر شائع کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سراسر بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈے کا تسلسل ہے، اس قسم کی کسی بھی رپورٹ کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں جب تک الیکشن کمیشن سے اس سلسلے میں مؤقف نہ لے لیا جاتا لہٰذا مناسب ہوتا رپورٹ شائع کرنے سے قبل الیکشن کمیشن سے مؤقف لے لیا جاتا، الیکشن کمیشن اس قسم کے ہتھکنڈوں سے دباؤ میں نہیں آئے گا اور آیین و قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیتا رہے گا۔

بتاتے چلیں کہ پتن کی جانب سے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 8 فروری 2024ء کے انتخابات میں ہیرا پھیری، جبر اور دھاندلی کے 64 نئے ذرائع کا استعمال کیا گیا، عام انتخابات میں بے مثال دھاندلی کے بعد آئین کے ڈھانچے اور روح کو مسخ کرنے کے اقدامات ہوئے، جس کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے ستمبر 2024ء تک اپنی ویب سائٹ پر انتخابی نتائج کے فارم تبدیل کیے جاتے رہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قانون کے مطابق الیکشن کمیشن پتن کی

پڑھیں:

گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث

گل پلازہ آتشزدگی کیس کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد عوام کے حقِ معلومات اور جاری فوجداری تحقیقات کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ چونکہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس مرحلے پر انکوائری رپورٹ جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تفتیشی افسر کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گی، جس کے بعد ان تک رسائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق ممکن ہوگی۔ کمیشن کے مطابق جاری تحقیقات کے دوران معلومات کی فراہمی سے تفتیشی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات بلا رکاوٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔

ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ سانحہ عوامی مفاد، شہریوں کے حقِ زندگی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے جڑا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے ذمہ داریوں کے تعین، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔

سماعت کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہیں انکوائری رپورٹ دستیاب نہیں تھی، جبکہ مختلف سرکاری اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں۔ اس صورتحال نے انکوائری، انتظامی کارروائی اور فوجداری تحقیقات کے باہمی تعلق پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گل پلازہ کیس نے دراصل 2 اہم قانونی اصولوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے سانحات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آنے چاہییں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مرحلے پر معلومات کی فراہمی سے تحقیقات یا عدالتی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو تفتیش کو ترجیح دینا قانونی تقاضا ہے۔

حقِ معلومات سے متعلق قوانین کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات میں معلومات کی فراہمی اس وقت تک مؤخر رکھی جا سکتی ہے، جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کیس میں اصل سوال صرف رپورٹ کی اشاعت کا نہیں بلکہ اس مناسب وقت کا بھی ہے، جب ایسی معلومات عوامی دسترس میں لائی جانی چاہییں۔

یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی

یہ مقدمہ شہری سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے عمارتوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں انکوائری رپورٹ کو صرف ذمہ داریوں کے تعین کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک اہم حوالہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور عدالتی کارروائی کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔ اگر تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد انکوائری رپورٹ یا اس کے نتائج عوامی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس مقدمے سے متعلق کئی سوالات کے جواب مل سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو ادارہ جاتی اصلاحات میں کس حد تک ڈھالا جا سکا۔

یوں گل پلازہ کیس محض ایک انکوائری رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں شفافیت، مؤثر تحقیقات اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • پانی کا دباؤ بڑھ گیا،چنیوٹ میں شگاف پڑنے سےکئی ایکڑ فصلیں متاثر
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق