سندھ حکومت جا گ گئی: دن کےاوقات میں کراچی میں ڈمپرزکےداخلےپرپابندی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
کراچی : ڈمپر، واٹر ٹینکراور ٹرالر سمیت ہیوی گاڑیوں سےشہریوں کی مسلسل ہلاکتوں کے بعد سندھ حکومت کو ہوش آگیا، چیف سیکرٹری سندھ نے ٹریفک حادثات کے حوالے سے ہنگامی اجلاس میں کراچی میں دن کے اوقات میں شہرمیں ڈمپر کے داخلے پرپابندی کافیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کے مطابق ڈمپرزکورات11سےصبح 6 بجےتک داخلے کی اجازت ہوگی۔
اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پرچیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ نے کراچی میں ٹریفک حادثات پرہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو3ماہ کےاندرآپریشن کونائٹ شفٹ منتقل کرنےکاحکم دیا۔ اجلاس میں تمام بڑی گاڑیوں اور ڈرائیورز کے فزیکل ویری فکیشن کا فیصلہ کیا گیا۔ہنگامی اجلاس میں تمام گاڑیوں پرمحکمہ ٹرانسپورٹ سے کیوآرکوڈ لگا سرٹیفکیٹ ہونا چاہئے، چیف سیکریٹری نے واٹر بورڈ کےتمام ٹینکرزکی ایک ماہ میں انسپکشن کی ہدایت کردی۔
چیف سیکریٹری سندھ نے موٹرسائیکل سواروں کوہیلمٹ پہننے اور ٹریفک پولیس کوانفورسمنٹ بڑھانےکی بھی ہدایت کی، اجلاسد میں انھوں نے کہا کہ شہرمیں بڑھتےحادثات پرسخت اقدامات ضروری ہوگئےہیں۔
سید آصف حیدرشاہ اجلاس میں ہدایت کی کہ لاپرواہی پرچالان کےساتھ ایف آئی آردرج کی جائے، حادثات کی وجہ ہیوی ٹریفک کے قانون پرعملدرآمد نہ ہونا ہے۔
ہنگامی اجلاس میں سندھ حکومت نےصوبے میں وہیکل انسپکشن اینڈسرٹیفکیشن سسٹم شروع کرنےکافیصلہ کیا اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو وہیکل انسپکشن اینڈ سرٹیفکیشن سسٹم شروع کرنے کا حکم دیا۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ شہرمیں چلنے والی گاڑیوں میں 65 فیصدموٹرسائیکل ہیں، 55 فیصد حادثات کا شکارموٹرسائیکل سوارہوتے ہیں۔
چیف سیکریٹری سندھ نے ڈی آئی جی ٹریفک کوایک ماہ کےاندرٹریفک حالات بہترکرنےحکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ٹریفک قوانین پرسختی سےعملدرآمدکروایا جائے، ٹریفک چالان کو4 گنابڑھایا جائے۔
اس سے قبل ترجمان سندھ حکومت سیدہ تحسین عابدی نے ڈمپرحادثات پر جاری بیان میں کہا کہ سندھ حکومت شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیےسنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، روڈ سیفٹی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اوورلوڈنگ، اوور اسپیڈنگ اور ان فٹ گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیف سیکریٹری سندھ حکومت اجلاس میں
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔