Express News:
2026-07-24@15:16:35 GMT

کارکنوں کا جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی، شوکت یوسفزئی

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT

لاہور:

رہنما تحریک انصاف شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ سب کو پتہ ہے کہ 8 فروری کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ پڑا عوامی مینڈیٹ پر اور عوام کے اندر جو آگاہی عمران خان نے یا ان کی پارٹی نے پیدا کی ہے۔ 

اس کا نتیجہ ہے کہ 26 نومبر کو گولیاں چلیں، لوگوں کو مارا پیٹا گیا لیکن آج جس جوش و جذبے کے ساتھ کارکن دوبارہ نکلے تو وہ قابل دید تھا، اپنے کارکنوں کو میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اس دفعہ کارکن خود آئے تھے، یہ ان کا جذبہ تھا،مجھے بڑی خوشی ہے۔ 

ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے تھے کہ تحریک انصاف ختم ہو گئی ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

رہنما مسلم لیگ (ن)خرم دستگیر نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں جو پیش رفت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کا جو انتشاری اور فسادی ٹیکٹک تھا حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلیے وہ مکمل طور پر ناکام ہوا ہے، اگرچہ اس انتشاری ٹولے نے پانچ رینجرز اور ایک پولیس والے کی جان بھی لی ہے لیکن وہ نقصان جو ہے اس کی تلافی تو نہیں ہو سکتی۔

لیکن یہ بات اب ثابت ہو گئی کہ اس طرح کے متشدد فساد کے ذریعے یا احتجاج کے ذریعے حکومتوں کو پاکستان میں بدلا نہیں جا سکتا نہ ہی بدلا جائے گا،ایک سال ہو گیا پی ٹی آئی کسی بھی فورم پر الیکشن کی دھاندلی کے کوئی ثبوت اور شواہد پیش نہیں کر پائی۔

ماہر بین الاقوامی امور احمر بلال صوفی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ خلاف توقع اس سے ادارہ اور اس کا جو کونسیپٹ ہے وہ زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئے گا، یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ جب ایک ایسا ادارہ دنیا میں موریلٹی کی بنیاد، دنیا میں انصاف کی بنیاد فراہم کرتا ہو اور اس کے بارے میں یونیورسل اور متفقہ اتفاق ہو، جب اس کی مخالفت اس طرح سے کی جائے کہ کوئی خاص ایجنڈے کیلیے کسی ایک ملک کے لیے آپ اس پر کوئی بھی قدغن کوئی بھی سینکشن اس کے آفیسرز پر لگائیں گے تو اس کے ردعمل میں لوگ اسی کو ایمفاسائز کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی

جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔

جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔

نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔

مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی

اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔

متعلقہ مضامین

  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ