پی ٹی آئی رہنما مہر بانو قریشی کو کارکنوں سمیت رہا کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
پی ٹی آئی رہنما مہر بانو قریشی کو کارکنوں سمیت رہا کردیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2025 سب نیوز
ملتان(آئی پی ایس )جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کے پل چٹھہ سے گرفتار پی ٹی آئی رہنما مہر بانو قریشی اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق مہربانو قریشی، زاہد بہار ہاشمی سمیت گرفتار 9افراد کو علاقہ مجسٹریٹ نے بری کردیا جبکہ علاقہ مجسٹریٹ نے ناکافی شواہد پر تفتیشی افسر کی جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی۔
خیال رہے کہ ملتان میں پی ٹی آئی رہنما مہر بانو قریشی اور زاہد بہار ہاشمی سمیت دیگر کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، پولیس حکام کے مطابق ان افراد کو پل چٹھہ سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔واضح رہے کہ پنجاب میں دفعہ 144 کے تحت جلسے، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی رہنما مہر بانو قریشی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔