حکومت اور سرکاری ملازمین کے درمیان مذاکرات کامیاب،دھرنا موخر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک : حکومت اور سرکاری ملازمین کی قیادت کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، جس کے بعد سرکاری ملازمین نے 10 فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہونے والے گرینڈ دھرنے کو 20 فروری تک مؤخر کر دیا ہے۔
حکومت نے سرکاری ملازمین سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا مقصد سرکاری ملازمین کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر بات چیت کرنا ہے، آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے چیف کوارڈینیٹر، رحمان باجوہ نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو 20 فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ برقرار رہے گا
راولپنڈی میں آپریشن،غیر قانونی 205 افغان باشندوں کو ملک بدر کر دیا گیا
اس سے قبل سرکاری ملازمین نے کل دھرنے کا اعلان کیا تھا اس کے بعد حکومت نے مذاکرات شروع کیے اور ملازمین کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں تاکہ بہتر طریقے سے حل نکل سکے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔