ممبئی (شوبز ڈیسک)بولی وڈ اسٹار سیف علی خان نے خود پر ہونے والے حملے کے بعد پہلی بار میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں بڑے بیٹے ابراہیم علی خان نے نہیں بلکہ تیمور علی خان نے ہسپتال پہنچایا جو کہ بار بار ان سے پوچھتے رہے کہ کیا آپ مر جائیں گے؟

سیف علی خان پر گزشتہ ماہ 16 جنوری کو گھر میں گھسنے والے حملہ آور نے چاقو سے حملہ کیا تھا، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے تھے، انہیں ایمرجنسی میں ہسپتال لایا گیا تھا، جہاں ان کی متعدد سرجریز کی گئی تھیں۔

سیف علی خان کو تقریبا ایک ہفتے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا اور بعد ازاں پولیس نے ان پر حملے کے الزام میں مبینہ بنگلہ دیشی شہری کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، بعد ازاں پولیس نے ریاست مغربی بنگال سے ایک بنگالی خاتون کو بھی حراست میں لیا تھا۔
ابھی تک سیف علی خان پر حملے کے کیس کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں لیکن اب اداکار نے خود پر ہونے والے حملےسے متعلق پہلی بار میڈیا سے بات کی ہے۔

سیف علی خان نے ’ٹائمز آف انڈیا‘ سے بات کرتے ہوئے حملے سے متعلق حیران کن باتیں بتائیں اور واضح کیا کہ انہیں بڑے بیٹے ابراہیم علی خان نے نہیں بلکہ چھوٹے بیٹے تیمور علی خان نے ہسپتال پہنچایا تھا۔

اداکار نے بتایا کہ حملے کے بعد نہ صرف ان کی اہلیہ کرینہ کپور بلکہ بیٹے تیمور علی خان نے بھی ان سے پوچھا کہ کیا وہ حملے کی وجہ سے مرنے والے ہیں؟

سیف علی خان کے مطابق انہوں نے اہلیہ کرینہ کپور کو تسلی دی کہ وہ خیریت سے ہیں، انہیں کچھ نہیں ہوا، وہ بہن کرشمہ کپور کے گھر جاکر مدد کے لیے فون کالز کریں۔

اداکار نے بتایا کہ اسی دوران وہ اپنے بیٹے تیمور علی خان کے ہمراہ ہسپتال پہنچے، بیٹے نے ان سے دوبارہ بھی پوچھا کہ کیا وہ مرنے والے ہیں؟

بولی وڈ اسٹار کے مطابق ہسپتال پہنچنے کے فوری بعد جیسے ہی اسٹاف کو معلوم ہوا کہ سیف علی خان ایمرجنسی میں لائے گئے تو انہوں نے محض چند منٹ میں انہیں آپریشن تھیٹر منتقل کرکے ان کا فوری علاج شروع کردیا۔

سیف علی خان نے حملے سے متعلق وضاحت کی کہ حملہ آور نے ان کی گردن پر زور سے وار کیے، جن سے ان کی زندگی تقریبا خطرے میں پڑ چکی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ خدا کے شکر سے حملے کے باوجود ان کی گردن سے دماغ میں جانے والی شہ رگیں اور ڈھانچے کو گردن اور دماغ سے ملانے والی شہ رگیں بھی حملے سے محفوظ رہیں۔

سیف علی خان کے مطابق چند سینٹی میٹرز کے فاصلے پر ان کی دماغ اور گردن کو ملانے والی شہ رگیں موجود تھیں لیکن چاقو کے وار سے وہ شہ رگیں محفوظ رہیں، اگر مذکورہ رگوں کو تھوڑا سا بھی نقصان پہنچتا تو معاملہ سنگین ہوسکتا تھا۔

اداکار نے بتایا کہ حملے کے بعد ان کے تمام بچے حیران اور پریشان ہوئے، تمام بچوں نے ان کے ساتھ کافی وقت گزارا، سارہ علی خان اور ابراہیم علی خان بڑے ہونے کے باوجود زیادہ پریشان دکھائی دیے۔

اداکار نے مسکراتے ہوئے کہا کہ حملے کی وجہ سے کافی عرصے بعد ان کا خاندان ایک ساتھ رہنے لگا اور اب کرینہ کپور سمیت خاندان کے تمام افراد نے سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے پر توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے اور ہر کسی کی کوشش ہے کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:ماہرہ خان کو بولڈ تصاویر اور ویڈیوز پر تنقید کا سامنا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: تیمور علی خان سیف علی خان نے بتایا کہ حملے کے بعد علی خان کے علی خان نے اداکار نے شہ رگیں

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی