بمبئی لائٹ ہاؤس کی تیسری برانچ سائرا کا شاندار افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
بمبئی لائٹ ہاوئس کے نام سے نئے آ رٹ کا شاندار افتتاح، اس موقع پرآغا سراج درانی، مرزا اختیار بیگ ، شعیب اسماعیل، شاہد اسماعیل ، عبدالجبار دلال ، شہزاد مبین و دیگرکاگروپ فوٹو
کراچی (کامرس رپورٹر) کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 8میں سا ئرا بائے بمبئی لائٹ ہاوئس کے نام سے نئے آرٹ کا شاندار افتتاح ، گھریلو استعمال کے لیے منفرد ڈزائن کے جھومر، لیمپ اور جدید لائٹس، اسمارٹس سوئچ، شوپیس ، ڈیکوریٹو آئیٹم اور آٹو میٹک برقی آلات پاکستان میں پہلی بار متعارف کرادی گئی ، افتتاحی تقریب میں بڑی تعداد میں کاروباری افراد ، سیاسی رہنما?ں اور معروف آرٹسٹوں نے شرکت کرکے پروگرام کو چار چاند لگا دیے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی ڈیفنس فیز 8المرتضیٰ کمرشل میں بمبئی لائٹ ہا?س کی جانب سے اپنی تیسری برانچ سائرا بائے بمبئی لائٹ ہا?س کا افتتاح کردیا گیا، اس موقع پر گھروں میں استعمال ہونے والے انتہائی جدید اور منفرد قسم کے برقی آلات ، جھومر ، لیمپ، لائٹ ، ٹائل ، فرنیچر، بجلی کے بٹن ، شوپیس اور دیگر آلات پاکستان میں پہلی بار پیش کیے گئے ہیں جو دیکھنے میں انتہائی جاذب نظر ہیں ، افتتاحی تقریب میں سائرا بائے بمبئی لائٹ ہائوس کے روح رواں اقبال آڈیا، افضل آڈیا، انس آڈیا سمیت آڈیا فیملی کے دیگر ارکان سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی، مرزا اختیار بیگ ، معروف کاروباری شخصیات شعیب اسماعیل، شاہد اسماعیل ، عبدالجبار دلال ، شہزاد مبین ،شکیل صدیقی ،زیبا بختیار ، ایاز خان سمیت معروف شخصیات نے شرکت کرکے افتتاحی تقریب کو پررونق کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بمبئی لائٹ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔