غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت دینے کیلئے ترجیحی اقدامات کر رہے ہیں: وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
دبئی ( ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت دینے اور کاروبار میں آسانی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کررہے ہیں۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق دبئی میں وزیراعظم شہباز شریف سے معروف امریکی کاروباری شخصیت و سرمایہ کار جینٹری بیچ نے ملاقات کی جس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراءخواجہ محمد آصف، عطاءاللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک تھے۔
ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو سہولت اور کاروبار میں آسانی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے مستفید ہونے کیلئے یہ موزوں ترین وقت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کی بدولت ہی شرح سود کم ہونے سے کاروبار میں سہولت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، امریکا اور پاکستان کے مابین دہائیوں پر محیط تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے پر عزم ہیں۔
امریکی سرمایہ کار جینٹری بیچ نے وزیرِ اعظم کی قیادت میں پاکستان کے معاشی استحکام کی تعریف کی اور اپنے حالیہ دورہ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں کو کاروبار و سرمایہ کاری کیلئے موزوں قرار دیا۔
جینٹری بیچ نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر جلد عملدرآمد کے خواہاں ہیں۔
غزالہ انصاری اوپن چیمپئن شپ کو بین الاقوامی حیثیت دلانے کی تیاریاں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔