اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 فروری ۔2025 )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کے فیصلے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس عمران خان کی جانب سے ایسی کوئی اطلاعات نہیں آئیں.

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے اور جو احکامات سابق وزیراعظم کی طرف سے آتے ہیں وہ ان پر فوراً عمل کرتے ہیں حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت پہلے بھی نہیں چاہتی تھی کہ مذاکرات ہوں اور بدقسمتی ہے کہ مذاکرات کا موقع ضائع ہوا.

(جاری ہے)

دوسری جانب عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیر افضل مروت کے حوالے سے پارٹی اپنا موقف دے دے گی ہم شیر افضل مروت کے بارے فیصلے کی تردید یا تصدیق نہیں کریں گے یہ پارٹی کا انٹرنل معاملہ ہے یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے 13 جنوری کو عمران خان کی ہدایت پرشیر افضل مروت کو ایک بار پھر شو کاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ آپ بغیر سوچے سمجھے بولتے ہیں جس کا نتیجہ پارٹی کو بھگتنا پڑتا ہے.

قبل ازیں نجی ٹی وی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ تحریک انصاف نے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا جلد اعلامیہ جاری کیا جائے گا نجی ٹی وی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے پارٹی قیادت کو شیر افضل مروت کے خلاف فیصلہ کن اقدام کی ہدایت کی ہے اور جلد شیر افضل مروت کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا،رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بنیادی رکنیت ختم ہونے پر شیر افضل مروت سے بطور رکن قومی اسمبلی استعفی بھی طلب کیا جائے گا ذرائع کے مطابق شیر افضل مروت کے تحریک انصاف کے صوابی جلسہ میں کردار پر پارٹی راہنماﺅں نے عمران خان سے شکایت کی تھی واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر شیر افضل مروت کو شو کاز نوٹس جاری کیا گیا تھا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیر افضل مروت کو جاری نوٹس میں کہا گیا تھا کہ آپ بغیر سوچے سمجھے بولتے ہیں جس کا نتیجہ پارٹی کو بھگتنا پڑتا ہے شوکاز نوٹس میں شیر افضل مروت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ آپ کے بیانات کے حوالے سے عمران خان کو آگاہ کیا گیا تھا سابق وزیراعظم کی ہدایت کے بعد پارٹی کی جانب سے رویہ بہتر کرنے سے متعلق شو کاز نوٹس جاری کیا گیا.

شوکاز نوٹس کے مطابق شیر افضل مروت کو 7 دن کے اندر پارٹی کو تحریری طور پر جواب جمع کروانے کی ہدایت کی گئی تھی مطلوبہ دنوں میں جواب نہ جمع کرانے کی صورت میں پارٹی پالیسی کے مطابق کارروائی کا انتباہ دیا گیا تھا شوکاز ملنے کے بعد شیر افضل مروت نے دوستوں کے مشورے پر ایک دو ہفتے الیکٹرانک میڈیا سے دور رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور سماجی رابطے کی سائٹ ”ایکس“پر جاری بیان میں انہوں نے میڈیا کے دوستوں سے گزارش کی تھی کہ وہ کسی بھی پروگرام میں شامل ہونے پر اصرار نہ کریں .

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شیر افضل مروت کو شیر افضل مروت کے کہا گیا تھا کہ کے حوالے سے میں کہا گیا جاری کیا کی ہدایت انہوں نے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار