آئی ایم ایف کے وفد نے ججز سے نہیں، چیف جسٹس سے ملاقات کی، اعظم نذیر تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد ججز کو نہیں بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان کو ملا ہے۔
جمعرات کوسینیٹ آف پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عدلیہ کے کچھ پروگرامز ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے عالمی ادارے فنڈنگ کرتے ہیں، اسی سلسلے میں پاکستان کے دورے پر آئے ’آئی ایم ایف‘ کے وفد نے چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مانگا۔
وزیر قانون نے کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد ججز سے نہیں بلکہ صرف چیف جسٹس آف پاکستان کو ملا ہے۔ چیف جسٹس عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرتے ہیں، اسی لیے آئی ایم ایف کے وفد نے چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مانگا۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف والے چیف جسٹس آف پاکستان سے کسی مقدمے کا پوچھنے نہیں گئے، ان کی حدود نہیں کہ کیسز کے میرٹ پر بات کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایک جانب تو آئی ایم ایف کو اتنی چھٹیاں لکھی جاتی ہیں کہ عدالتوں میں یہ ہو رہا ہے اس پر ایکشن لیں، لیکن آئی ایم ایف کا یہ مینڈیٹ ہی نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف اعظم نذیر تارڑ چیف جسٹس آف پاکستان۔ عالمی مالیاتی فنڈ ملاقات وزیر قانون وفد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اعظم نذیر تارڑ چیف جسٹس ا ف پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ ملاقات وفد چیف جسٹس ا ف پاکستان اعظم نذیر تارڑ ا ئی ایم ایف کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔