سینیٹ نے  ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جلسہ کرنا تمام سیاسی جماعتوں کا آئینی حق ہے۔ جمعہ کوسینیٹ  اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز نے قرارداد پیش کرنے کی اجازت چاہی جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اعتراض کیا کہ اے این پی کے جلسے کا معاملہ پنجاب حکومت دیکھ رہی ہے یہ صوبائی معاملہ ہے اس کو سینیٹ میں نہیں ہونی چاہیے۔ پنجاب حکومت نے روات میں جلسہ کرنے کی اجازت کا کہاہے۔ ایوان نے تحریک منظور کرلی۔شبلی فراز نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ جلسہ کرنا تمام سیاسی جماعتوں بشمول تحریک انصاف کا حق ہے تمام صوبائی حکومتیں سیاسی جلسے کرنے کی اجازت دے جو آئین کے تحت ہے۔مسلم لیگ ن کے سینیٹر طاہر خلیل سندھو نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر کورم پورا تھا ۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم شدہ قرارداد ایوان میں پیش کی جس میں قرارداد سے تحریک انصاف کا نام نکال دیا ۔ سیاسی جلسہ کرنا تمام سیاسی جماعتوں کا آئینی حق ہے ۔قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔سینیٹر علی ظفر نے تحفظ صحافیان و میڈیا پروفیشنلز ترمیمی بل 2022،سعدیہ عیاسی نے سروس ٹریبونلز ترمیمی بل 2024 ،سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ریاستی ملکیتی کاروباری ادارے گورننس اینڈ آپریشنز ترمیمی بل 2024 اور گزشتہ دس سالوں کے دوران زرعی ترقیاتی بینک میں بھرتیوں کے حوالے سے رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ سینیٹر پونجو نے توجہ مبذول کرانے کا نوٹس پیش کیا جو راجارستی تاعمر کوٹ 17 کلومیٹر سڑک پر ٹول ٹیکس لینے کے حوالے سے تھا ۔سینیٹر پونجو نے کہاکہ سڑک ابھی بننی نہیں اور ٹول ٹیکس لینا شروع کردیا یے۔ٹول ٹیکس ختم کیا جائے۔ وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہاکہ اگر سڑک کی کنڈیشن ٹھیک نہیں ہے تو ٹول ٹیکس نہیں بنتا ہے اس 21 کلومیٹر کا کام اس لیے نہیں ہوسکتا کہ عدالت میں سٹے تھا تین ماہ کے اندر یہ سڑک بن جائے گی ۔ یہ کل 154کلومیٹر کی سڑک ہے ۔17کلومیٹر کا سڑک جب تک نہیں بنتا اس وقت تک ٹول ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔توجہ مبذول کرانے کا نوٹس کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جلسہ کرنا تمام سیاسی جماعتوں ٹول ٹیکس

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن