جنگل کا قانون اپنا کر امریکہ قانونی زوال کی جانب گامزن
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
اسلام ٹائمز: آئی سی سی کے علاوہ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں بھی جنوبی افریقہ کی مدعیت میں صیہونی حکمرانوں کے خلاف عدالتی کاروائی جاری ہے۔ یہ مقدمہ 1948ء میں اقوام متحدہ کے منظور شدہ نسل کشی کنونشن کی بنیاد پر شروع کیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں بھی اب تک عالمی عدالت انصاف غاصب صیہونی رژیم کے خلاف تین فیصلے جاری کر چکی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں صیہونی حکمرانوں کو غزہ میں نسل کشی کے جرم میں عالمی عدالت انصاف کے سخت فیصلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہذا امریکی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف پابندیاں عائد کیے جانے کا ایک مقصد عالمی عدالت انصاف اور اس کے پندرہ ججوں پر دباو ڈالنا ہے۔ لیکن ماضی کے تجربات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دباو بے سود ثابت ہو گا اور یہ اقدامات صرف امریکہ کے قانونی زوال میں مزید شدت کا باعث بنیں گے۔ تحریر: ڈاکٹر احمد کاظمی
امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی امریکہ میں موجودگی کے وقت بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف پابندیوں پر مشتمل صدارتی آرڈیننس جاری کر دینے جیسے اقدام سے ایک بار پھر بین الاقوامی قانونی اداروں کے خلاف امریکہ کی محاذ آرائی کھل کر سامنے آئی ہے۔ یاد رہے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) نے نومبر 2024ء میں غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف مجرمانہ اقدامات کا ارتکاب ثابت ہو جانے کے بعد صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور سابق صیہونی وزیر جنگ یوآو گالانت پر فرد جرم عائد کر کے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بین الاقوامی قانونی ادارے کو ہی سیاسی دشمنی کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی صدر کا یہ سیاسی اقدام پانچ مختلف پہلووں سے قابل غور ہے:
1)۔ امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت، اس کے اٹارنی اور ججوں کے خلاف یہ دوسرا دھمکی آمیز اور پابندیوں پر مبنی اقدام ہے۔ اس سے پہلے امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف ایسا ہی اقدام اس وقت انجام دیا تھا جب اس نے افغانستان پر فوجی قبضے کے دوران امریکی فوجیوں کے جنگی جرائم کی جانچ پرکھ انجام دی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اقدام اپنے قانونی، اخلاقی اور عمومی پہلووں سے ہٹ کر امریکہ کے "قانونی زوال" کا مظہر ہے جو اس کے "سیاسی زوال" کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دنیا کے 79 ممالک جن میں امریکہ کے اتحادی ممالک بھی شامل ہیں، نے امریکی صدر کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ اقدام قانون کی بین الاقوامی حاکمیت کو کمزور کرنے اور سنگین قسم کے جرائم کو تحفظ فراہم ہونے کا باعث بنے گا۔ یہ موقف ہمارے مدعا کی بہترین دلیل ہے۔
2)۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر لاقانونیت کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ لاقانونیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بین الاقوامی جرائم جیسے جنگی جرائم، فوجی جارحیت، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد اور ممالک کے خلاف کوئی قانونی کاروائی انجام نہ پا سکے اور اس کا نتیجہ بین الاقوامی معاشرے میں انارکی اور جنگل کا قانون حکمفرما ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ذمہ داری بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور میں ذکر ہوئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے اس معقول انسانی عمل کی مخالفت کی وجہ امریکی حکومت کی تسلط پسندانہ ذات کے علاوہ اس قانونی ادارے کی طاقت بڑھنے سے خوف بھی ہے کیونکہ خود امریکی حکمران بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ تاریخ دنیا کے مختلف ممالک پر امریکہ کی فوجی جارحیت اور انسانیت کے خلاف جرائم سے بھری پڑی ہے۔
3)۔ اگرچہ بنجمن نیتن یاہو کی امریکہ میں موجودگی کے وقت ٹرمپ کی جانب سے آئی سی سی کے خلاف صدارتی آرڈیننس جاری کیے جانے کا مطلب صیہونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات کی بھرپور اور غیر مشروط امریکی حمایت ہے لیکن یوں دکھائی دیتا ہے کہ بعض یورپی اور امریکہ کے اتحادی ممالک سمیت دنیا کے اکثر ممالک کی جانب سے نیتن یاہو اور یوآو گالانت کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کا خیر مقدم وائٹ ہاوس کی توقعات کے خلاف انجام پایا ہے۔ اس بات نے امریکہ کو غاصب صیہونی رژیم کا عالمی سطح پر مزید گوشہ نشین ہو جانے کی نسبت پریشان کر دیا ہے۔ تقریباً بیس سال پہلے آئی سی سی نے اس وقت کے صیہونی وزیراعظم ایریل شیرون پر صبرا اور شتیلا مہاجرین کیمپس میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مقدمہ چلا کر صیہونی رژیم کا مجرمانہ چہرہ دنیا والوں کے سامنے عیاں کیا تھا۔ آج بھی عالمی رائے عامہ صیہونی حکمرانوں کی گرفتاری کے حق میں ہے لہذا ٹرمپ کا اقدام عالمی فوجداری عدالت کے خلاف ایک ناکام کوشش ثابت ہو گی۔
4)۔ امریکہ عالمی فوجداری عدالت میں غاصب صیہونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات کے خلاف عدالتی کاروائی سے خوفزدہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ خود بھی غزہ جنگ میں صیہونی حکمرانوں کے انسانیت کے خلاف جرائم میں برابر کا شریک ہے۔ امریکہ نے صیہونی حکمرانوں کو فاسفورس بموں جیسے مہلک اور ممنوعہ ہتھیاروں سے لیس کیا جو جنیوا کنونشنز (1949ء) اور جنگ سے متعلق ہیگ کے قوانین کی روشنی میں ممنوعہ ہتھیار ہیں۔ یوں امریکہ نے صیہونی حکمرانوں کے مجرمانہ اقدامات میں براہ راست شراکت انجام دی ہے۔ لہذا بین الاقوامی فوجداری عدالت میں صیہونی رژیم کے خلاف جاری عدالتی کاروائی میں خود امریکہ بھی ملزم اور شریک جرم ہے اور امریکی حکمرانوں کو بھی سزا سنائے جانے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ آئی سی سی کے خلاف امریکی اقدامات اس تناظر میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
5)۔ آئی سی سی کے علاوہ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں بھی جنوبی افریقہ کی مدعیت میں صیہونی حکمرانوں کے خلاف عدالتی کاروائی جاری ہے۔ یہ مقدمہ 1948ء میں اقوام متحدہ کے منظور شدہ نسل کشی کنونشن کی بنیاد پر شروع کیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں بھی اب تک عالمی عدالت انصاف غاصب صیہونی رژیم کے خلاف تین فیصلے جاری کر چکی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں صیہونی حکمرانوں کو غزہ میں نسل کشی کے جرم میں عالمی عدالت انصاف کے سخت فیصلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہذا امریکی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف پابندیاں عائد کیے جانے کا ایک مقصد عالمی عدالت انصاف اور اس کے پندرہ ججوں پر دباو ڈالنا ہے۔ لیکن ماضی کے تجربات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دباو بے سود ثابت ہو گا اور یہ اقدامات صرف امریکہ کے قانونی زوال میں مزید شدت کا باعث بنیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فوجداری عدالت کے خلاف میں صیہونی حکمرانوں صیہونی حکمرانوں کے عالمی عدالت انصاف غاصب صیہونی رژیم مجرمانہ اقدامات انسانیت کے خلاف عدالتی کاروائی صیہونی رژیم کے قانونی زوال آئی سی سی کے حکمرانوں کو امریکی صدر کی جانب سے امریکہ کی نیتن یاہو امریکہ کے یہ اقدام ثابت ہو میں بھی جانے کا اور اس
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی