پی ٹی آئی میں بس کانوں میں بات ڈالنے کی دیر ہوتی ہے، لوگوں کی قسمت کے فیصلے ہو جاتے ہیں، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے سابق رہنما اور ممبر اسمبلی شیر افضل مروت نے مجھے پارٹی سے کیوں نکالا، اس کا جواب میری پارٹی کے پاس ہے ہی نہیں، جنہوں نے اپنا ووٹ اور ضمیر بیچا وہ شوکاز کے باوجود پارٹی میں موجود ہیں، سلمان اکرم راجا خود کو ڈی فیکٹو سیکرٹری جنرل کہتے ہیں، جسے عام زبان میں غاصب کہتے ہیں۔
جمعہ کو ایک ٹی وی انٹرویو میں ممبر اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ مجھے ایک سال میں 3 مرتبہ پارٹی سے نکالا گیا، فی الحال تو یہ جیت گئے ہیں لیکن میں پھر واپس آؤں گا، جنہوں نے اپنا ووٹ اور ضمیر بیچا وہ شوکاز کے باوجود پارٹی میں موجود ہیں۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان کے گرد جو لوگ ہیں وہ سارے غیر منتخب لوگ ہیں اورپارٹی کے معاملات سارے یہی چلا رہے ہیں، میرے خلاف بھی یہی لوگ تھے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کان بھرنے والی بیماری بڑھ گئی ہے، اس کا علاج نہ ہوا تو یہ کینسر بن جائے گی، عمران خان کی عمر 74 سال ہو گئی ہے اور وہ جیل میں ہیں ان کی معلومات تک رسائی بہت محدود ہوتی ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ سلمان اکرم راجا غلط بیانی کر رہے ہیں، سارا کیا دھرا ان کا اور ان کے ساتھیوں کا ہے، سلمان اکرم راجا جن کی سفارش سے سیکریٹری جنرل بنے دراصل وہ بااثر لوگ ہیں۔ یہ خود کو ڈی فیکٹو سیکرٹری جنرل کہتے ہیں، جسے عام زبان میں غاصب کہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجا کو اگر ناگوار گزرا ہے تو مجھے ان کی پروا بھی نہیں ہے۔ اگر کسی نے سلمان راجا کی حمایت کرنی ہے تو مجھ پر کیچڑ اچھالنا پڑے گی۔ سلمان اکرم 9 مئی کے بعد پارٹی میں آئے اور سیکریٹری جنرل بن گئے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ پارٹی کے معاملات درست نہیں ہیں، ہم عملی کام سے ہٹ چکے ہیں۔ عمران خان جیل میں ہیں اور ان کی معلومات تک رسائی محدود ہے، بس کانوں میں بات ڈالنے کی دیر ہوتی ہے، لوگوں کی قسمت کے فیصلے ہو جاتے ہیں اور میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ بس باہر بیٹھے لوگ پارٹی کا بیانیہ بناتے ہیں۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی میں چپراسی سے لے کر چیئرمین تک کا فیصلہ بانی کرتے ہیں۔ جس کی رسائی ہو وہ فیصلہ تبدیل کروا لیتا ہے، کے پی اسپیکر کے لیے 3 نامزدگیاں ہوئیں۔ پی ٹی آئی میں 2 دن بعد کسی کی تقدیر کا کچھ پتا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا کسی گروپ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا، بانی پی ٹی آئی ہی میرے لیڈر ہیں۔ عمران خان پارٹی کو پنجاب میں بہتر پوزیشن پر لانا چاہتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو کہا گیا کہ صوابی کا کراؤڈ مروت لائے ہیں جو ان کے نعرے لگا رہا تھا، اگر سارا مجمع میں لایا تھا تو پی ٹی آئی کا کراؤڈ کہاں گیا۔
شیرافضل مروت نے کہا کہ ’میں نے کہا تھا کہ موروثی سیاست کا قائل نہیں ہوں، یہ بات بھی ان کو ناگوار گزری ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس وقت پارٹی کے معاملات درست چل رہے ہیں۔ میرے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو اب جواب دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کارکن گھاس نہیں کھاتا، جو بندر بانٹ ہے وہ سب کو نظر آ رہی ہے۔ جنہوں نے قربانیاں دیں انہیں کچھ نہ ملا، جنہوں نے کچھ نہ کیا انہیں عہدے ملے۔ ضرورت ہے کہ آپریشنل ذمہ داریاں پارٹی عہدے داروں کو دی جائیں۔
میں پارٹی میں جب بھی واپس آیا تو ایک عمران خان کے ایجنڈے کو آگے بڑھاؤں گا اور دوسرا پارٹی کے اندر ان لوگوں کو ان کی اوقات دکھاؤں گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی چیئرمین سلمان اکرم راجا شیر افضل مروت عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی چیئرمین سلمان اکرم راجا شیر افضل مروت شیر افضل مروت نے کہا کہ سلمان اکرم راجا انہوں نے کہا کہ پارٹی میں پی ٹی ا ئی جنہوں نے کہتے ہیں پارٹی کے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔