کلینیکل ٹرائلز سمٹ آف پاکستان2025: طبی تحقیقات اور عالمی تعاون کی جانب اہم قدم
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2025 GMT
نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) اور آغا خان یونیورسٹی کے اشتراک سے پاکستان میں کلینیکل ٹرائلز کے فروغ کے لیے کلینیکل ٹرائلز سمٹ آف پاکستان (CTSP) 2025 کا انعقاد کیا گیا۔ راولپنڈی اور کراچی میں منعقدہ 5 روزہ کانفرنس نے پاکستانی اور بین الاقوامی ماہرین کو تحقیق اور تجربات کے تبادلے کا پلیٹ فارم فراہم کیا۔
14 فروری کو آرمی میڈیکل کالج، راولپنڈی میں کانفرنس سمپوزیم کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں لیفٹیننٹ جنرل ارشد نسیم نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی لیفٹیننٹ جنرل ارشد نسیم، سرجن جنرل پاکستان آرمی، نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلینیکل ٹرائلز جدید طب کی بنیاد ہیں، جو علاج کے طریقوں اور انسانی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: پراسرار بیماری نے موت کا بازار گرم کردیا، طبی ماہرین ششدر
لیفٹیننٹ جنرل ارشد نسیم نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ محض جدت کا ذریعہ نہیں، بلکہ ہمارے مخصوص صحت عامہ کے چیلنجز سے نمٹنے کا ایک مؤثر راستہ بھی ہے۔
سی ٹی ایس پی 2025 کی کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین نے طبی تحقیق اور کلینیکل ٹرائلز کے شعبے میں تعاون پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر عبدالرشید عبدالرحمن (ملائیشیا)، ڈاکٹر شیلاں صدیقی (کینیڈا)، ڈاکٹر کیرن والش (برطانیہ)، ڈاکٹر کرسٹین سین (امریکا) اور ڈاکٹر سعید حامد (پاکستان) نے سمٹ میں شرکت کی۔
کانفرنس کے اختتام پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) وسیم عالمگیر اور مہمانِ خصوصی نے معزز مقررین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈز پیش کیں۔ سی ٹی ایس پی 2025 جیسے ایونٹس پاکستان کو عالمی کلینیکل ریسرچ نیٹ ورک سے جوڑنے اور بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ تعاون کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آغا خان یونیورسٹی کلینیکل ٹرائلز سمٹ آف پاکستان لیفٹیننٹ جنرل ارشد نسیم نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آغا خان یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل ارشد نسیم نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز لیفٹیننٹ جنرل ارشد نسیم
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔