پشاور(نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اکابرین کے مشاورتی اجلاس میں صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بااثر سیاسی و مذہبی شخصیات پر مشتمل جرگہ تشکیل دینے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے افغانستان کے ساتھ حکومتی سطح پر مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ شرکا نے مطالبہ کیا کہ ملک میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سدباب کیا جائے۔

وزیراعلی ہاؤس پشاور میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اکابرین کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدرات وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کی۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق شرکا نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جرگہ تشکیل دیا جائے، جو بااثر سیاسی اور مذہبی شخصیات پر مشتمل ہو، ملک میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سد باب کیا جائے۔

اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں امن، افغانستان میں امن کے ساتھ مشروط ہے تاہم دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے افغانستان کے ساتھ حکومتی سطح پر مذاکرات جلد شروع کیے جائیں جبکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے سیاسی اور مذہبی جماعتیں ملکر کام کریں گے۔

اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ قیام امن سب سے اہم ہے، جس کے لیے قومی مفاد وقت کی اہم ضرورت ہے، اس ایجنڈے پر تمام سیاسی جماعتوں کو اکھٹا کیا جائے اور اس مقصد کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے جو تمام سیاسی جماعتوں سے روابط قائم کرے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ اس قسم کی سرگرمیاں پورے ملک میں اضلاع کی سطح پر منعقد کرنے کی ضرورت ہے، ملی یک جہتی قونصل اس کاوش میں صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، دہشت گردی کے خلاف اور امن کے قیام کے لیے علمائے کرام جمعہ کے خطبات میں عوام کی رہنمائی کریں گے۔

اجلاس میں شرکا کا کہنا تھا کہ ضلع کرم کا مسئلہ اگرچہ علاقائی ہے لیکن یہ ایک قومی مسئلہ بن سکتا ہے جس کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، حکومت آئین کی حکمرانی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے۔

اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان اور متحدہ علما بورڈ خیبر پختونخوا کے قائدین بھی شریک ہوئے۔
مزیدپڑھیں:للت مودی کو پھر محبت مل گئی، سشمیتا سین سے بریک اپ کی تصدیق

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: دہشت گردی کے اجلاس میں کے ساتھ ملک میں کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی